تل ابیب ہمارے نشانے پر ہے، اسرائیلی شہر خالی کردیں، ایران کی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران اسرائیل کشیدگی میں شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے، جہاں اسرائیل کی جانب سے ایران کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس کے جواب میں پاسداران انقلاب نے بھی اسرائیلیوں کو تل ابیب شہر فوری طور پر خالی کرنے کی وارننگ دی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس حوالے سے کہا گیاہے کہ آنے والے چند گھنٹوں میں تل ابیب میں موجود مخصوص فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ بیان کے بعد خطے میں بے چینی اور خوف کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے، جب کہ بین الاقوامی برادری نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کی طرف سے جاری کردہ وارننگ کو غیر معمولی اور فوری خطرے کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران کو خالی کرنے اور شہریوں کو نکلنے کی د ھمکی دی ہے۔
خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جنگ اور عسکری دباؤ کا سلسلہ اب دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تصادم کے خدشے کو مزید بڑھا رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق تل ابیب میں فوجی تنصیبات اور خفیہ مراکز کو نشانہ بنایا جانا متوقع ہے، جو حالیہ اسرائیلی جارحیتوں کا جواب ہوں گے۔ ایران کی جانب سے اس سے قبل بھی موقف مسلسل پیش کیا جاتا رہا ہے کہ اسرائیل نے حالیہ مہینوں میں خطے میں ایرانی مفادات پر کئی خفیہ اور اعلانیہ حملے کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تل ابیب
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔