اسرائیلی حملوں میں اب تک 224افراد شہید، 90فیصد عام شہری،ایرانی وزارت صحت
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
اسرائیلی حملوں میں اب تک 224افراد شہید، 90فیصد عام شہری،ایرانی وزارت صحت WhatsAppFacebookTwitter 0 16 June, 2025 سب نیوز
تہران (سب نیوز)ایران کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے نتیجے میں اب تک 224 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 90فیصد عام شہری ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق اسرائیل نے جمعے کی صبح ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جن کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات اور اعلی فوجی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ان حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی، ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل محمد باقری، اور ختم الانبیا ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل غلام علی راشد سمیت کئی سینئر افسران بھی شہید ہوئے۔
ایرانی وزارتِ صحت نے مزید بتایا کہ شہدا میں ایٹمی سائنسدان اور دیگر عام شہری شامل ہیں، جب کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔حملوں کو ایران نے کھلی جارحیت اور جنگ کا آغاز قرار دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی شدید طور پر بڑھ گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان نے اسرائیل پر ایٹمی حملے سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا، اسحاق ڈار پاکستان نے اسرائیل پر ایٹمی حملے سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا، اسحاق ڈار وزیرِ اعظم کی آئی ٹی ایکوسسٹم کو بہتر بنانے سے متعلق اقدامات جلد مکمل کرنے کی ہدایت اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ کو دوستوں کے سامنے قتل کرنے والا ملزم گرفتار سٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان ، شرح سود 11فیصد پر برقرار سکیورٹی فورسز کی کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 5 دہشت گرد ہلاک ایران نے میری خواب گاہ کی کھڑکی پر میزائل فائر کیا، اسرائیلی وزیراعظمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔