data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250616-01-11
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل اور ایران کے مابین جاری جنگ کے باعث 2 دن میں دنیا بھر کی 6 ہزار پرواز منسوخ کردی گئی ہیں۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ایران اسرائیل جنگ کے بعد سب سے زیادہ اسرائیل کا تل ابیب ائر پورٹ متاثر ہوا ہے جب کہ دمشق، بغداد، تہران، بیروت اور امان کوئین ائرپورٹ بھی مسلسل بند ہیں۔ذرائع کے مطابق ایران، شامل کے شہر بغداد اور اسرائیل کی فضائی حدود 2 روز سے مسلسل بند ہے جب کہ اردن لبنان شام کی فضائی حدود سے مخصوص پروازیں پیشگی اجازت سے جزوی طور پر گزر سکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل کے تل ابیب ائر پورٹ سے 44 ممالک کے لیے یومیہ 100 ائرپورٹس کی پروازیں آپریٹ کی جاتی ہیں جب کہ اردن کے امان کوئین عالیہ ائرپورٹ سے روزانہ 40 ملکوں کے 81 ائرپورٹ کی پروازیں چلائی جاتی ہیں۔شام کے دمشق ائرپورٹ سے 13 ملکوں کے 20 ائرپورٹس پر سروس فراہم کی جاتی ہے جب کہ عراق کے بغداد ائرپورٹ سے 18 ممالک کے 32 ائرپورٹس کی پروازیں آتی جاتی ہیں۔ایران کے تہران ائرپورٹ سے23 ملکوں کے 51 ائرپورٹس پر فضائی سروس فراہم کی جاتی ہے جب کہ لبنان کے بیروت ائرپورٹ سے 26 ممالک کے 49 ائرپورٹس کے لیے پروازیں چلائی جاتی ہیں۔ فلائٹ ریڈار کے ڈیٹا کے مطابق ان ائرپورٹس کی ایک دن میں 3 ہزار پروازیں منسوخ ہورہی ہیں جب کہ بڑی تعداد میں پروازیں متاثر بھی ہوئیں۔ ادھر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث مختلف غیرملکی ائرلائنزنے پاکستانی فضائی حدود کا استعمال شروع کردیا۔ایمریٹس سمیت کئی بڑی ائرلائنز شمالی امریکا،مصر اور دیگر ممالک کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کر رہی ہیں۔ائرلائنز مغربی پاکستان سے گزر کر مغرب میں افغانستان، ترکمانستان، بحیرہ کیسپین، آذربائیجان اور ترکی کے بعد آگے جا رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ائرپورٹ سے کے مطابق ممالک کے جاتی ہیں ہے جب کہ

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی