data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تل ابیب: ایران کی جانب سے اتوار اور پیر کی درمیانی شب کیے گئے بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع یواف گیلنٹ اور وزیر اسرائیل کاٹز نے سخت ردعمل دیتے ہوئے تہران کو سنگین نتائج کی دھمکی دے دی۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز  نے کہا ہے کہ ایرانی بمباری کی بھاری قیمت اب ایران کے عوام کو چکانا پڑے گی، تہران سے فائر کیے گئے میزائل حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں کئی شہری جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں اور اس خون کی قیمت تہران کے باسیوں سے لی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای دانستہ طور پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں تاکہ اسرائیلی دفاعی نظام اور جوابی کارروائی کی صلاحیت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ بھی واضح کیا کہ تل ابیب ایران کے حملوں کو کسی صورت نظرانداز نہیں کرے گا اور بہت جلد اس کا ایسا جواب دیا جائے گا جو یادگار ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی فوجی مہم جوئی اسرائیل کے صبر کا امتحان لے رہی ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اسے سخت ترین پیغام دیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیر دفاع

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم