ایران اسرائیل جنگ میں مداخلت کی تو امریکی اڈے نشانہ بنیں گے، عراقی حزب اللہ کی امریکا کو دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
عراق کی طاقتور ایران نواز مسلح تنظیم ’کتائب حزب اللہ‘نے امریکا کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی میں عسکری مداخلت کی تو خطے بھر میں امریکی مفادات اور فوجی اڈے حملوں کی زد میں آ جائیں گے۔
تنظیم کے سیکریٹری جنرل ابو حسین الحمیداوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم خطے میں امریکی فوج کی تمام نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر امریکا جنگ میں براہِ راست مداخلت کرتا ہے تو ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اُس کے تمام مفادات اور اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔‘
امریکی سفارتخانہ بند کرنے کا مطالبہ’کتائب حزب اللہ‘ کے سیکرٹری جنرل نے عراق میں امریکی سفارتخانے کی فوری بندش کا مطالبہ کرتے ہوئے عراقی حکومت سے کہا کہ حکومت میں شامل مخلص اور ذمہ دار شخصیات جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جرات مندانہ مؤقف اختیار کریں۔
یہ بھی پڑھیے طاقتور حملہ ہورہا ہے، ملک چھوڑ دو، ایران کا اسرائیلی عوام کو انتباہ
انہوں نے مزید کہا کہ اگر خطے میں جنگ بڑھی تو عراق میں امریکی عسکری و سفارتی موجودگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور یہ عراق کی سلامتی و استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جائے گی۔
عراقی حکومت کا مؤقفدوسری طرف عراقی حکومت نے گزشتہ روز ایک بیان میں اسرائیلی حملوں میں عراقی فضائی حدود کے استعمال کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا اور کہا کہ ’ہم عراق کی فضائی حدود کی کسی بھی خلاف ورزی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، اور امریکا پر زور دیتے ہیں کہ وہ صیہونی ریاست کے طیاروں کو ہماری فضائی حدود استعمال کرنے سے روکے۔‘ حکومت نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کو باضابطہ شکایت بھی جمع کروائی ہے۔
ایران کا دباؤ اور خطے میں کشیدگیواضح رہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی بغداد سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا کو اپنی فضائی حدود اور سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روکے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا اسرائیل کے حالیہ حملوں میں بالواسطہ شریک ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایران کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل میں غزہ جیسے مناظر، ہر طرف تباہی
خطے میں کشیدگی اور ممکنہ ردِ عملتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کتائب حزب اللہ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب لبنان کی حزب اللہ سمیت ایران کے اتحادی گروہ تاحال خاموش ہیں، مگر کسی بھی بڑی مداخلت کی صورت میں وہ بھی متحرک ہو سکتے ہیں۔
خطے پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق، یہ صورتحال اگر نہ رکی تو باقاعدہ علاقائی جنگ میں بدل سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف عراق بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل ایران جنگ عراق عراقی حزب اللہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران جنگ عراقی حزب اللہ میں امریکی حزب اللہ کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔