اسرائیل کا ایک بار پھر تہران پر حملہ، سرکاری ٹی وی چینل کی عمارت کو نشانہ بنایا WhatsAppFacebookTwitter 0 16 June, 2025 سب نیوز

تہران (سب نیوز)اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر ایران کے دارالحکومت تہران پر حملے شروع کردیے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق تازہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔خبررساں ایجنسی کے مطابق دوران نشریات ٹی وی چینل کی عمارت پر حملہ کیا گیا، اسرائیلی حملہ ہونے پر اینکر اپنی سیٹ چھوڑ کر اٹھ گئیں۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے میں سرکاری چینل کے متعدد کارکنوں کی شہادتوں کی اطلاع ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایرانی پارلیمنٹ پاکستان سے اظہار تشکر کے نعروں سے گونج اٹھی ایرانی پارلیمنٹ پاکستان سے اظہار تشکر کے نعروں سے گونج اٹھی ایران پر اسرائیلی حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، شہباز شریف پنجاب کا5335ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش، تنخواہ 10، پنشن میں 5فیصد اضافہ،کم از کم اجرت 40ہزار مقرر،، اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی عراق سے مزید 268پاکستانی زائرین واپس پہنچ گئے وزیراعظم نے ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری کے قوانین میں تبدیلی کرا دی ایران کا بڑا قدم، پارلیمانی بل کے ذریعے جوہری عدم پھیلاو کا معاہدہ چھوڑنے کی تیاری کر لی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ٹی وی چینل کی عمارت

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی