ایران کا اسرائیل پر سائبر حملہ، شہریوں کو ایندھن ذخیرہ کرنے اور پناہ گاہوں میں جانے کے پیغامات موصول
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید کشیدگی میں ایک نیا محاذ کھل گیا ہے جب ایران کی جانب سے اسرائیل پر سائبر حملہ کیا گیا جس میں ہزاروں اسرائیلی شہریوں کے موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق شہریوں کو ایسے پیغامات موصول ہوئے جن میں انہیں پناہ گاہوں میں جانے اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی ہدایات دی گئیں۔
اسرائیلی حکام نے فوری طور پر اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایران کا ڈیجیٹل حملہ ہے اور شہری ان پیغامات پر توجہ نہ دیں۔
یہ سائبر حملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے پیر اور منگل کی درمیانی شب اسرائیل پر ایک اور بڑا میزائل اور ڈرون حملہ کیا جس کا نشانہ تل ابیب اور حیفہ بنے۔ اس حملے کے نتیجے میں حیفہ آئل ریفائنری مکمل طور پر بند ہو گئی جبکہ کم از کم تین ملازمین ہلاک ہوئے۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جمعے سے اب تک ایرانی میزائل حملوں میں 24 اسرائیلی ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جب کہ ملک کے مختلف حصوں میں بنیادی تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
یہ پڑھیں:ایران کا اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے تباہ کن حملہ، حیفہ ریفائنری بند، 3 ملازمین ہلاک
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا سائبر حملہ ایک نیا اسٹریٹجک رخ ہے جس سے اسرائیل کے داخلی نظام اور عوامی اعتماد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام نے تمام اہم اداروں کو الرٹ کر دیا ہے اور ممکنہ مزید سائبر حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیل پر سائبر حملہ ایران کا
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔