خواجہ آصف صاحب! آپ پاکستان کے وفاقی وزیر ہیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران پر اسرائیل کے حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ سمیت بیش تر بڑے اسلامی ملکوں نے ایران کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکا، جرمنی، فرانس سمیت غیر اسلامی ملکوں نے اسرائیل کی حمایت کی ہے یا خاموشی اختیار کی ہے، بھارت واحد ملک ہے جہاں اسرائیل کے حق میں ریلی نکالی گئی ہے۔ اسی طرح شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ارکان نے ایران اسرائیل جنگ میں ایران کی حمایت کا اعلان کیا ہے لیکن صرف بھارت واحد رکن ہے جس نے ایران کی حمایت نہیں کی؛ ایس سی او کے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کے حملے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی اور علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے، بھارت نے ایس سی او کی یکجہتی کو توڑ دیا اور ایک علٰیحدہ بیان جاری کیا جس میں اسرائیل کی مذمت تک نہیں کی گئی۔
وہ جو ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ یہود و ہنود آپس میں دوست ہیں یہ مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، اس کا عملی مظاہرہ آج ہم عالمی سطح پر دیکھ رہے ہیں جس دن سے اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے حسب روایت پاکستانی سیاست دانوں، مذہبی رہنماؤں، سماجی لیڈروں نے بیانات دینے شروع کر دیے ہیں کہ امت مسلمہ متحد ہو جائے، مسلم ممالک نے اتحاد نہ کیا تو سب کی باری آئے گی، عالمی برادری اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ مطالبے کس سے کیے جاتے ہیں، عالمی برادری کہاں رہتی ہے، اس میں کون کون شامل ہے، ان لایعنی مطالبوں کا کیا کبھی کوئی اثر ہوا ہے جو آج ہو جائے گا یا یہ بیانات دے کر ہم اپنی ذمے داری سے سبک دوش ہو جاتے ہیں، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ مسلم دنیا متحد نہ ہوئی تو سب کی باری آئے گی، اس وقت لازم ہے
کہ کچھ اقدامات کیے جائیں، اسرائیل نے یمن، ایران، فلسطین کو ٹارگٹ بنایا ہوا ہے۔ اسلامی دنیا میں اس کے خلاف اس طرح آواز نہیں اُٹھ رہی جس طرح باقی دنیا میں اُٹھ رہی ہے، غیر مسلموں کے ضمیر جاگ رہے ہیں لیکن مسلمانوں کے ضمیر نہیں جاگے، خواجہ آصف صاحب سب سے مضبوط اسلامی ملک پاکستان کے وزیر دفاع ہیں انہیں بتانا چاہیے کہ اسلامی ملکوں کے اتحاد کے لیے پاکستانی حکومت نے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں یہ ممالک خود بخود تو متحد نہیں ہوں گے۔ کسی نہ کسی کو تو اس کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی، ہر اسلامی ملک سے رابطہ کرنا ہوگا، انتشار کے نقصانات اور اتحاد کے فوائد سے آگاہ کرنا ہوگا، افسوس ہے کہ پاکستانی وزیر اس طرح بیانات دیتے ہیں کہ گویا بھول گئے ہوں کہ وہی حکومت ہیں اور جو مطالبہ وہ کر رہے ہیں ان پر عمل کرنا انہی کی ذمہ داری ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے خبر جاری کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے اسرائیلی منصوبے کو ویٹو کر دیا اور اسرائیل کو قتل کے اقدام سے روک دیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے امریکی صدر کو یہ اطلاع دی گئی تھی کہ انہیں ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کرنے کا موقع ملا ہے، اسرائیل اپنے حملوں میں علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی، فوج کے سربراہ میجر جنرل باقری، پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، میجر جنرل غلام علی، کمانڈر ایرو اسپیس فورس بریگیڈیئر جنرل عامر علی ایرانی انٹیلی جنس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل غلام رضا محرابی، سربراہ آپریشنز بریگیڈیئر جنرل مہدی ربانی اور 9 سے زائد ایٹمی سائنس دانوں کو شہید کر چکا ہے اس لیے رائٹرز کی مذکورہ خبر پر بھی یقین کیا جا سکتا ہے۔ اس تمام صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد ایران میں کس سطح تک سرایت کر چکی ہے، اسرائیلی جاسوس یقینا اسرائیلی شہری تو نہیں ہوں گے ایرانی شہریوں کو ہی جاسوس بنایا گیا ہوگا ایرانی شہری اتنے بڑے پیمانے پر اسرائیلی جاسوس بننے کے لیے کیسے راضی ہوئے اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں اس خطے کے ممالک کا جائزہ لینا ہوگا۔ انتہائی بدقسمتی ہے کہ پورے خطے میں صرف ایک جمہوری ملک ہے اور وہ اسرائیل ہے باقی تمام ملکوں میں یا تو بادشاہت ہے یا بدترین آمریت قائم ہے، ایران میں انتخابات ہوتے ہیں لیکن وہاں بھی سخت جابرانہ نظام ہے، گزشتہ برسوں میں اس جبر کے خلاف کئی تحریکیں (صحیح یا غلط) اُٹھیں ان سب کو ریاستی طاقت کے ذریعے کچل دیا گیا۔ جمہوری ملکوں میں عوام یا کسی خاص طبقے کو کچھ شکایات ہوتی ہیں تو وہ آواز اُٹھا سکتے ہیں، حکومتیں ان کی شکایات پر غور کرتی ہیں ان کے مسائل حل کرتی ہیں لیکن پھر بھی ان کے مسائل حل نہ ہوں تو وہ چار پانچ سال بعد انتخابات میں اس حکومت کو بدل سکتے ہیں لیکن غیر جمہوری ممالک میں ہر مسئلے کو بے رحمانہ طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لوگوں کو ڈرا دھمکا کر، جیلوں میں ڈال کر یا قتل کر کے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ مسئلہ حل ہو گیا حالانکہ مسئلہ حل نہیں ہوتا زیر زمین چلا جاتا ہے جو پہلے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے جن لوگوں کی شکایات نہ حکومت سننے کو تیار ہو نہ انہیں عدالتوں سے انصاف مل رہا ہو پھر وہ دشمن ایجنسیوں کا آسان شکار ہوتے ہیں ایرانی حکومت اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو اس سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس بیان کہ ’’سب کی باری آئے گی‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ بات طے شدہ ہے کہ ایران اسرائیل جنگ میں اسرائیل ایران کو ملیا میٹ کر دے گا اور پھر کسی دوسرے اسلامی ملک پر چڑھ دوڑے گا، خواجہ آصف کو یاد رکھنا چاہیے قدرت نے کچھ نہ کچھ آپشنز سب کے لیے رکھے ہوتے ہیں، اسرائیل کے پاس دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی، ہتھیار اور ساز و سامان ہے لیکن اس کی آبادی بہت کم ہے جو اس کے لیے بہت ہی قیمتی ہے، چند لوگ بھی مرجائیں تو وہاں صف ماتم بچھ جاتی ہے، ایران میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے ایرانی طویل عرصے سے بین الاقوامی پابندیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اس لیے ان کے پاس جو کچھ ٹیکنالوجی ہے وہ ان کی اپنی ہے امریکا یا دیگر ترقی یافتہ ممالک کی جدید ترین ٹیکنالوجی اس کے پاس نہیں ہے لیکن اس کی آبادی اسرائیل کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور یہ وہ آبادی ہے جو عراق (جسے امریکی آشیرباد بھی حاصل تھی) سے آٹھ سال تک جنگ لڑ چکی ہے یقینا اس وقت انقلاب نیا نیا تھا، لوگوں میں بہت جوش و خروش اور اتحاد تھا لیکن اس وقت ایرانی فوج کے تتر بتر ہو چکی تھی اس صورتحال میں بھی ایران آٹھ سال تک جنگ لڑتا رہا اور اگر جیتا نہیں تو ہارا بھی نہیں تھا، اب انقلاب پرانا ہو گیا ہے وہ جوش و خروش بھی نہیں لیکن اب ایران کی منظم فوج ہے، تمام ادارے مضبوط و متحرک ہیں اس لیے ایران اسرائیل کے لیے تر نوالہ ثابت نہیں ہوگا۔
ایران پر اسرائیلی حملے یقینا قابل مذمت ہیں لیکن اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں شیعہ سنی اتحاد نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، عوامی سطح پر یہ اتحاد ہمیشہ رہتا ہے لیکن اوپر کی سطح پر کچھ لوگ انتشار و افتراق کی بات کرتے رہتے ہیں اس وقت پورے ملک میں مسلمانوں کے اتحاد کی باتیں ہو رہی ہیں اللہ کرے یہ اتحاد و اتفاق مستقل بنیادوں پر قائم ہو جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیل کے اسلامی ملک پاکستان کے خواجہ ا صف نے ایران ایران کی ہیں لیکن کی حمایت ہے لیکن رہے ہیں لیکن اس ایران ا کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔