Jasarat News:
2026-06-03@05:39:01 GMT

خواجہ آصف صاحب! آپ پاکستان کے وفاقی وزیر ہیں

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران پر اسرائیل کے حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ سمیت بیش تر بڑے اسلامی ملکوں نے ایران کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکا، جرمنی، فرانس سمیت غیر اسلامی ملکوں نے اسرائیل کی حمایت کی ہے یا خاموشی اختیار کی ہے، بھارت واحد ملک ہے جہاں اسرائیل کے حق میں ریلی نکالی گئی ہے۔ اسی طرح شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ارکان نے ایران اسرائیل جنگ میں ایران کی حمایت کا اعلان کیا ہے لیکن صرف بھارت واحد رکن ہے جس نے ایران کی حمایت نہیں کی؛ ایس سی او کے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کے حملے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی اور علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے، بھارت نے ایس سی او کی یکجہتی کو توڑ دیا اور ایک علٰیحدہ بیان جاری کیا جس میں اسرائیل کی مذمت تک نہیں کی گئی۔
وہ جو ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ یہود و ہنود آپس میں دوست ہیں یہ مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، اس کا عملی مظاہرہ آج ہم عالمی سطح پر دیکھ رہے ہیں جس دن سے اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے حسب روایت پاکستانی سیاست دانوں، مذہبی رہنماؤں، سماجی لیڈروں نے بیانات دینے شروع کر دیے ہیں کہ امت مسلمہ متحد ہو جائے، مسلم ممالک نے اتحاد نہ کیا تو سب کی باری آئے گی، عالمی برادری اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ مطالبے کس سے کیے جاتے ہیں، عالمی برادری کہاں رہتی ہے، اس میں کون کون شامل ہے، ان لایعنی مطالبوں کا کیا کبھی کوئی اثر ہوا ہے جو آج ہو جائے گا یا یہ بیانات دے کر ہم اپنی ذمے داری سے سبک دوش ہو جاتے ہیں، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ مسلم دنیا متحد نہ ہوئی تو سب کی باری آئے گی، اس وقت لازم ہے
کہ کچھ اقدامات کیے جائیں، اسرائیل نے یمن، ایران، فلسطین کو ٹارگٹ بنایا ہوا ہے۔ اسلامی دنیا میں اس کے خلاف اس طرح آواز نہیں اُٹھ رہی جس طرح باقی دنیا میں اُٹھ رہی ہے، غیر مسلموں کے ضمیر جاگ رہے ہیں لیکن مسلمانوں کے ضمیر نہیں جاگے، خواجہ آصف صاحب سب سے مضبوط اسلامی ملک پاکستان کے وزیر دفاع ہیں انہیں بتانا چاہیے کہ اسلامی ملکوں کے اتحاد کے لیے پاکستانی حکومت نے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں یہ ممالک خود بخود تو متحد نہیں ہوں گے۔ کسی نہ کسی کو تو اس کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی، ہر اسلامی ملک سے رابطہ کرنا ہوگا، انتشار کے نقصانات اور اتحاد کے فوائد سے آگاہ کرنا ہوگا، افسوس ہے کہ پاکستانی وزیر اس طرح بیانات دیتے ہیں کہ گویا بھول گئے ہوں کہ وہی حکومت ہیں اور جو مطالبہ وہ کر رہے ہیں ان پر عمل کرنا انہی کی ذمہ داری ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے خبر جاری کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے اسرائیلی منصوبے کو ویٹو کر دیا اور اسرائیل کو قتل کے اقدام سے روک دیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے امریکی صدر کو یہ اطلاع دی گئی تھی کہ انہیں ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کرنے کا موقع ملا ہے، اسرائیل اپنے حملوں میں علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی، فوج کے سربراہ میجر جنرل باقری، پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، میجر جنرل غلام علی، کمانڈر ایرو اسپیس فورس بریگیڈیئر جنرل عامر علی ایرانی انٹیلی جنس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل غلام رضا محرابی، سربراہ آپریشنز بریگیڈیئر جنرل مہدی ربانی اور 9 سے زائد ایٹمی سائنس دانوں کو شہید کر چکا ہے اس لیے رائٹرز کی مذکورہ خبر پر بھی یقین کیا جا سکتا ہے۔ اس تمام صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد ایران میں کس سطح تک سرایت کر چکی ہے، اسرائیلی جاسوس یقینا اسرائیلی شہری تو نہیں ہوں گے ایرانی شہریوں کو ہی جاسوس بنایا گیا ہوگا ایرانی شہری اتنے بڑے پیمانے پر اسرائیلی جاسوس بننے کے لیے کیسے راضی ہوئے اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں اس خطے کے ممالک کا جائزہ لینا ہوگا۔ انتہائی بدقسمتی ہے کہ پورے خطے میں صرف ایک جمہوری ملک ہے اور وہ اسرائیل ہے باقی تمام ملکوں میں یا تو بادشاہت ہے یا بدترین آمریت قائم ہے، ایران میں انتخابات ہوتے ہیں لیکن وہاں بھی سخت جابرانہ نظام ہے، گزشتہ برسوں میں اس جبر کے خلاف کئی تحریکیں (صحیح یا غلط) اُٹھیں ان سب کو ریاستی طاقت کے ذریعے کچل دیا گیا۔ جمہوری ملکوں میں عوام یا کسی خاص طبقے کو کچھ شکایات ہوتی ہیں تو وہ آواز اُٹھا سکتے ہیں، حکومتیں ان کی شکایات پر غور کرتی ہیں ان کے مسائل حل کرتی ہیں لیکن پھر بھی ان کے مسائل حل نہ ہوں تو وہ چار پانچ سال بعد انتخابات میں اس حکومت کو بدل سکتے ہیں لیکن غیر جمہوری ممالک میں ہر مسئلے کو بے رحمانہ طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لوگوں کو ڈرا دھمکا کر، جیلوں میں ڈال کر یا قتل کر کے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ مسئلہ حل ہو گیا حالانکہ مسئلہ حل نہیں ہوتا زیر زمین چلا جاتا ہے جو پہلے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے جن لوگوں کی شکایات نہ حکومت سننے کو تیار ہو نہ انہیں عدالتوں سے انصاف مل رہا ہو پھر وہ دشمن ایجنسیوں کا آسان شکار ہوتے ہیں ایرانی حکومت اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو اس سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس بیان کہ ’’سب کی باری آئے گی‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ بات طے شدہ ہے کہ ایران اسرائیل جنگ میں اسرائیل ایران کو ملیا میٹ کر دے گا اور پھر کسی دوسرے اسلامی ملک پر چڑھ دوڑے گا، خواجہ آصف کو یاد رکھنا چاہیے قدرت نے کچھ نہ کچھ آپشنز سب کے لیے رکھے ہوتے ہیں، اسرائیل کے پاس دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی، ہتھیار اور ساز و سامان ہے لیکن اس کی آبادی بہت کم ہے جو اس کے لیے بہت ہی قیمتی ہے، چند لوگ بھی مرجائیں تو وہاں صف ماتم بچھ جاتی ہے، ایران میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے ایرانی طویل عرصے سے بین الاقوامی پابندیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اس لیے ان کے پاس جو کچھ ٹیکنالوجی ہے وہ ان کی اپنی ہے امریکا یا دیگر ترقی یافتہ ممالک کی جدید ترین ٹیکنالوجی اس کے پاس نہیں ہے لیکن اس کی آبادی اسرائیل کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور یہ وہ آبادی ہے جو عراق (جسے امریکی آشیرباد بھی حاصل تھی) سے آٹھ سال تک جنگ لڑ چکی ہے یقینا اس وقت انقلاب نیا نیا تھا، لوگوں میں بہت جوش و خروش اور اتحاد تھا لیکن اس وقت ایرانی فوج کے تتر بتر ہو چکی تھی اس صورتحال میں بھی ایران آٹھ سال تک جنگ لڑتا رہا اور اگر جیتا نہیں تو ہارا بھی نہیں تھا، اب انقلاب پرانا ہو گیا ہے وہ جوش و خروش بھی نہیں لیکن اب ایران کی منظم فوج ہے، تمام ادارے مضبوط و متحرک ہیں اس لیے ایران اسرائیل کے لیے تر نوالہ ثابت نہیں ہوگا۔
ایران پر اسرائیلی حملے یقینا قابل مذمت ہیں لیکن اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں شیعہ سنی اتحاد نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، عوامی سطح پر یہ اتحاد ہمیشہ رہتا ہے لیکن اوپر کی سطح پر کچھ لوگ انتشار و افتراق کی بات کرتے رہتے ہیں اس وقت پورے ملک میں مسلمانوں کے اتحاد کی باتیں ہو رہی ہیں اللہ کرے یہ اتحاد و اتفاق مستقل بنیادوں پر قائم ہو جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیل کے اسلامی ملک پاکستان کے خواجہ ا صف نے ایران ایران کی ہیں لیکن کی حمایت ہے لیکن رہے ہیں لیکن اس ایران ا کے لیے

پڑھیں:

دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی

سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا  اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔

وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے  ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک  میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔

پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے

2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں  نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟