ٹیکساس(نیوز ڈیسک) امریکی ریاست ٹیکساس میں حالیہ شدید بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے۔ امریکی میڈیا سی این این کے مطابق مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 81 تک جا پہنچی ہے، جن میں 15 بچے بھی شامل ہیں۔

ریاست میں جاری سمر کیمپ میں شریک 27 لڑکیاں تاحال لاپتہ ہیں، جنکی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، کیمپ میں 700 لڑکیاں مقیم تھیں۔

سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر سان اینجلو ہے، جہاں مکانات اور گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں۔ حکام کے مطابق چند گھنٹوں میں مہینوں کی بارش کا پانی برسا، جس نے نظام زندگی درہم برہم کر دیا۔ بعض علاقوں میں 6 سے 8 انچ، جبکہ کچھ مقامات پر 10 انچ تک بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

ریسکیو اداروں کی جانب سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے 850 افراد کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔ ریاستی گورنر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فوری وفاقی ایمرجنسی کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متاثرین سے اظہار تعزیت بھی کیا اور کہا کہ وہ ممکنہ طور پر جمعہ کو متاثرہ علاقے کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی انتظامیہ نے گورنر ایبٹ سے رابطہ رکھا ہے۔

صدر ٹرمپ نے نیو جرسی روانگی کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ہولناک واقعہ تھا۔ ہم ان تمام لوگوں کے لیے دعا گو ہیں جو اس آزمائش سے گزرے، اور ہم ریاست ٹیکساس کے لیے دعا کرتے ہیں۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل