ایس آئی ایف سی کا دوسرا سال؛ آئی ٹی و ٹیلی کام کے شعبوں میں تاریخی کامیابیاں
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
ایس آئی ایف سی کے دوسرے سال میں ملک کے آئی ٹی اور ٹیلی کام شعبوں نے تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آئی ٹی کے شعبے میں ایس آئی ایف سی کی کاوشیں ثمر آور ثابت ہوئی ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹیشن کونسل نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
آئی ٹی سیکٹر کی ترقی اور عالمی کمپنیوں کی سرمایہ کاری سے جدید ٹیکنالوجی انفرا اسٹرکچر مستحکم ہوا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کےآئی ٹی کے شعبے کی اہمیت میں ایس آئی ایف سی کی بدعلت نمایاں اضافہ ممکن ہوا ہے اور پاکستان میں 2 لاکھ گریجویٹس کی آئی ٹی اسکلز ٹریننگ ممکن بنائی گئی ہے
ایس آئی ایف سی کی معاونت سے آئی ٹی کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔ آئی ٹی سیکٹر کی ترقی سے بین الاقوامی لین دین اور فری لانسرز کے لیے نئی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔
ایس آئی ایف سی کی سرپرستی میں جدید آئی ٹی پارکس کی تعمیر اور عالمی سطح پر اسٹارٹ اپس تک رسائی ممکن ہوئی ہے۔ ان اقدامات کی بدولت پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر عالمی سطح پر متعارف ہوا ہے۔
آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبوں میں ہونے والی انقلابی تبدیلیوں میں ایس آئی ایف سی کا کردار قابل تحسین ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس آئی ایف سی کی آئی ٹی
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔