اسرائیل کے سوا کوئی بھارت کے ساتھ نہ کھڑا ہوا، یہ اس کی اصل ہار ہے،خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
اسلام آباد (ممتا زنیوز)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ افواجِ پاکستان نے بھارت کے ساتھ جنگ میں بہادری سے مقابلہ کیا اور اپنا لوہا منوایا، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت اب اپنی عوام کو مطمئن کرنے کے لیے بیانات کا سہارا لے رہا ہے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان تنہا نہیں تھا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو دنیا بھر کی حمایت حاصل تھی۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ میدان میں صرف اسرائیل کھڑا تھا، جو اس کی سفارتی تنہائی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق، بھارت کی جانب سے دیے جانے والے حالیہ بیانات دراصل اس کی سفارتی محاذ پر شکست کا اعتراف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں تاریخی شکست ہوئی ہے اور اب ان کا بیانیہ خود ان کی سرزمین میں دفن ہو چکا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی عسکری اور سفارتی کامیابیاں دشمن کے عزائم کے سامنے ایک مضبوط دیوار ثابت ہوئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔