میلبرن: آسٹریلیا نے بھارت کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں 4 وکٹوں سے شکست دے دی
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آسٹریلوی ٹیم نے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو 4 وکٹوں سے مات دے دی۔
میلبرن میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں آسٹریلیا نے بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر پانچ میچز کی سیریز میں برتری حاصل کر لی۔ کپتان مچل مارش کی قیادت میں آسٹریلوی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جو میدان میں ثابت قدم رہا۔
بھارتی بیٹنگ لائن پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکی اور ٹیم 18.
بھارت کی فہرست میں اکشر پٹیل 7، شبمان گل 5، شیوام دوبے 4، سنجو سیمسن 2 اور سوریا کمار یادیو 1 رن کے ساتھ نمایاں رہے۔ تلک ورما، کلدیپ یادیو اور جسپریت بمراہ بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔
آسٹریلیا کی جانب سے جوش ہیزل ووڈ نے 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ زیویئر بارٹلیٹ اور نیتھن ایلس نے 2،2 اور مارکس اسٹوئنس نے ایک وکٹ حاصل کی۔ بولنگ کے اس شاندار مظاہرے نے بھارتی ٹیم کی بیٹنگ لائن کو مکمل طور پر محدود کر دیا۔
جواب میں آسٹریلوی بلے بازوں نے 126 رنز کا ہدف محض 13.2 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ کپتان مچل مارش 46، ٹریوس ہیڈ 28 اور جوش انگلس 20 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ دیگر بیٹسمین بھی مقررہ اوورز میں ٹیم کو مضبوط پوزیشن فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے۔
بھارت کی جانب سے جسپریت بمراہ، کلدیپ یادیو اور ورون چکرورتی نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں، لیکن یہ کوششیں ٹیم کی شکست کو روکنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہو سکیں۔
یاد رہے کہ سیریز کا پہلا میچ بارش کی نذر ہو گیا تھا، جس کے بعد آسٹریلیا نے دوسرے میچ میں اپنی برتری مستحکم کر لی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔