حکومت اور اسٹیٹ بینک کے سخت فیصلوں سے معیشت بحال ہوئی، گورنر اسٹیٹ بینک
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
حکومت اور اسٹیٹ بینک کے سخت فیصلوں سے معیشت بحال ہوئی، گورنر اسٹیٹ بینک WhatsAppFacebookTwitter 0 7 July, 2025 سب نیوز
کراچی(آئی پی ایس) گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ حکومت اور مرکزی بینک کے سخت فیصلوں کی وجہ سے معیشت بحال ہوئی ہے، ماضی کی غلطیاں دہرانی نہیں چاہییں۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے ویمن آنٹرپرینیور فنانس کوڈ پاکستان کی افتتاحی تقریب سے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، ڈپٹی گورنر سلیم اللہ، ایشیائی ترقیاتی بینک کے نمائندے نے خطاب کیا جب کہ مقامی بینکوں کے صدور بھی تقریب میں موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ وی فنانس کوڈ کو ممکن بنانے پر ایشیائی ترقیاتی بینک کی ٹیم کا شکرگزار ہوں۔ پائیدار معیشت کے حصول کے لیے میکرو اکنامک استحکام کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں ہماری معیشت کو کئی مسائل درپیش تھے،تاہم حکومت اور اسٹیٹ بینک کے سخت فیصلوں سے معاشی بحالی ہوئی ہے۔ اس وقت افراطِ زر کم ترین سطح پر ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، اسٹیٹ بینک کے ذخائر بہتر شرح مبادلہ مستحکم ہیں ۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ماضی کے مسائل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پائیدار معیشت کی جانب گامزن ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 25 میں افراطِ زر 9 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ سخت مانیٹری اور فسکل پالیسی کے سبب ہم نے معاشی تنزلی پر قابو پایا ہے۔ بیرونی کھاتوں کی بہتر کارکردگی کے باعث زرمبادلہ مارکیٹ مستحکم ہے۔ ترسیلاتِ زر اور برآمدات کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں۔ مالیاتی پالیسی نے زری پالیسی کو سپورٹ کیا جس کے سبب معاشی بہتری ہوئی۔ پاکستان میں پائیدار طریقے سے معاشی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ نجی شعبے کے فروغ سے مسابقت اور معیار میں بہتری آرہی ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا مزید کہنا تھا کہ گزرے چند سال معیشت کے لیے مشکل رہے، تاہم حکومت اور اسٹیٹ بینک کی کوششوں سے مشکل سے نکل آئے ہیں۔ مہنگائی کم ہے، معاشی منظر نامہ بہتر ہو چکا ہے۔ اصلاحات پر توجہ مرکوز ہے،ٹیکس بیس بڑھانے، سرکاری اداروں اور نجکاری پر توجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی مالی شمولیت بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 22 فیصد خواتین ملکی ورک فورس کا حصہ ہے۔ بینکوں کو آمد ورفت، مالی رسائی اور ڈیجیٹل آن بورڈنگ کے مسائل ہیں۔ خواتین کا مالی نظام میں شامل نہ ہونا کم بچتوں اورُ قلیل سرمایہ کاری کا سبب ہے۔ اسٹیٹ بینک وی فنانس کا نیشنل کوڈ چیمپئن مقرر ہے۔ ہم اس پروگرام کو مالی اداروں، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے تک لے کر جائیں گے۔ 20 بینک اس کوشش میں شامل ہوئے ہیں۔ باقی ماندہ اسٹیک ہولڈرز کو اس کوشش کا حصہ بننے کی ترغیب دیں گے۔
قبل ازیں ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالی شمولیت بڑھانے پر اسٹیٹ بینک 2 دہائیوں سے توجہ دے رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی کوششوں سے مالی شمولیت 16 فیصد سے بڑھا کر 67 فیصد ہوئی ہے۔ خواتین کی شمولیت کم ہے، 52 فیصد خواتین کا بینک اکاؤنٹ نہیں ہے جب کہ بینکوں سے 2 فیصد خواتین قرض لے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وی فنانس کوڈ بہت اہم موقع پر متعارف کیا جارہا ہے۔ ویمن کوڈ کی خواتین شمولیت میں یہ اہم کردار ادا کرے گی۔ 20 بینکوں نے وی فنانس کوڈ پر دستخط کرنے پر رضا مندی اظہار کیا ہے۔ ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے تشکر کا اظہار کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں سینئر فنانس ڈائریکٹر اے ڈی بی مس کرسٹین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں خواتین کی مالی شمولیت ایک تہائی سے بھی کم ہے۔ پاکستان کے شعبہ بینکاری میں وسیع مواقع دستیاب ہیں۔ وی فنانس کوڈ کے ذریعے اسٹیٹ بینک خواتین کی مالی شمولیت کو مزید تیز کر پائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اے ڈی بی وی فنانس کوڈ کو سپورٹ کررہے ہیں۔ وی فنانس کوڈ پروگرام کے تحت 50 کروڑ ڈالر قرض فراہم کریں گے۔ پروگرام کے ذریعے لاکھ خواتین کو قرض فراہم کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربرکس ممالک کی ایران پر حملوں کی مذمت، اسرائیل و امریکا کا نام لینے سے گریز برکس ممالک کی ایران پر حملوں کی مذمت، اسرائیل و امریکا کا نام لینے سے گریز حوالدار لالک جان شہید:کسی بھی محاذ پر آخری لمحے تک بہادری و دفاع کی اعلیٰ ترین مثال پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نیا ریکارڈ، انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو گیا چین نے بھارت پاکستان تنازع کے بعد رافیل کی فروخت متاثر کرنے کے لیے مہم چلائی: فرانس جسٹس سردار سرفراز ڈوگر 8 جولائی کو بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عہدے کا حلف اٹھائیں گے سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے نئے ضوابط 2025ء کا اجراCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: حکومت اور اسٹیٹ بینک بینک کے سخت فیصلوں گورنر اسٹیٹ بینک انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے فنانس کوڈ خواتین کی بینک کی کے لیے
پڑھیں:
ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
سعودی عرب نے ویژن 2030 کے تحت گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران نہ صرف معیشت کو متنوع بنانے میں نمایاں پیش رفت کی بلکہ روزگار، خواتین کے بااختیار بنانے، صحت، رہائش، کھیل، ثقافت اور نوجوانوں کی ترقی سمیت سماجی شعبوں میں بھی غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق مملکت اب ایک مضبوط معیشت کے ساتھ ایک جدید اور متحرک معاشرے کی تشکیل کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔
اپریل 2016 میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ویژن 2030 کے آغاز کے بعد سعودی عرب نے اقتصادی، مالی، انتظامی اور سماجی اصلاحات کے ذریعے ایک نئی ترقیاتی راہ اختیار کی۔ گزشتہ تقریباً 10 برس کے دوران مملکت نے نہ صرف بڑے اقتصادی اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے بلکہ عالمی سطح پر اپنی سیاسی، اقتصادی اور سفارتی حیثیت بھی مزید مستحکم کی۔
یہ بھی پڑھیے ویژن 2030: سعودی عرب نے سماجی و معاشی ترقی کے بیشتر اہداف قبل از وقت حاصل کر لیے
ابتدائی برسوں میں عالمی توجہ زیادہ تر اقتصادی تنوع اور میگا پراجیکٹس پر مرکوز رہی، تاہم اب ویژن 2030 کا سب سے نمایاں پہلو سعودی معاشرے میں آنے والی وسیع سماجی تبدیلیاں بن چکی ہیں، جنہوں نے شہریوں کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔
تازہ ترین ویژن 2030 سالانہ رپورٹ کے مطابق معیارِ زندگی، روزگار، گھروں کی ملکیت، کھیل، ثقافت، سماجی شمولیت اور ترقی کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ویژن 2030 صرف نئی معیشت نہیں بلکہ ایک نئے سعودی معاشرے کی بھی تشکیل کر رہا ہے۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ویژن 2030 کے آغاز پر نوجوانوں کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی نوجوان ہی مستقبل کی ضمانت ہیں، اسی لیے حکومتی سرمایہ کاری کا بنیادی مرکز نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور مہارتوں کی ترقی ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔
روزگار اور انسانی ترقی میں نمایاں کامیابیاںرپورٹ کے مطابق 2025 تک نجی شعبے میں کام کرنے والے سعودی شہریوں کی تعداد 17 لاکھ سے بڑھ کر 26 لاکھ ہو گئی، جبکہ قومی بے روزگاری کی شرح 2016 کے 12.3 فیصد سے کم ہو کر 7.2 فیصد رہ گئی، جو مقررہ ہدف سے بھی بہتر کارکردگی ہے۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs) بھی روزگار کے بڑے ذریعہ بن کر سامنے آئے ہیں، جہاں ملازمتوں کی تعداد 88 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئی، جو 2025 کے ہدف سے بھی زیادہ ہے۔
خواتین کی شمولیت میں تاریخی اضافہویژن 2030 کے تحت خواتین کی معاشی شرکت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 22.8 فیصد سے بڑھ کر 35 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 2030 کا ہدف 40 فیصد مقرر ہے۔
یہ کامیابی بچوں کی نگہداشت، لچکدار ملازمتوں، بہتر ٹرانسپورٹ، اور خواتین کے لیے نئے شعبے کھولنے جیسی حکومتی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب 43.9 فیصد درمیانی اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں۔
خصوصی افراد کے لیے بھی بہتر مواقعکام کرنے کی صلاحیت رکھنے والے خصوصی افراد کی ملازمت کی شرح 14.7 فیصد تک پہنچ گئی، جو مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔ اس پیش رفت میں دفاتر میں رسائی بہتر بنانے اور آجر اداروں کی حوصلہ افزائی نے اہم کردار ادا کیا۔
انسانی ترقی اور رضاکارانہ خدماتسعودی عرب کا ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس (HDI) بڑھ کر 0.900 ہو گیا، جو 2025 کے ہدف سے بھی بہتر ہے۔
ملک میں رضاکارانہ خدمات کا رجحان بھی تیزی سے فروغ پایا، جہاں 17 لاکھ 49 ہزار رضاکار سرگرم عمل ہیں، جبکہ 2030 کا ہدف صرف 10 لاکھ تھا، جو 5 سال پہلے ہی حاصل کر لیا گیا۔
کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کے پروگرام چلانے والی بڑی کمپنیوں کا تناسب 30 فیصد سے بڑھ کر 76.83 فیصد ہو گیا، جبکہ غیر منافع بخش شعبے کا مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں حصہ 0.2 فیصد سے بڑھ کر 1.4 فیصد تک پہنچ گیا۔
نوجوانوں کی مہارتوں پر خصوصی توجہسعودی حکومت نے نوجوانوں کے لیے تعلیم، فنی تربیت، انٹرن شپ، کاروباری معاونت اور کیریئر ڈویلپمنٹ کے متعدد پروگرام شروع کیے۔
فنی و پیشہ ورانہ تعلیم مکمل کرنے والے 47.41 فیصد طلبہ کو 6 ماہ کے اندر ملازمت مل رہی ہے، جبکہ جامعات اور صنعتوں کے درمیان 90 سے زائد شراکتی پروگرام شروع کیے جا چکے ہیں۔
میڈیا انڈسٹری کے لیے بھی نیا میڈیا اسکالرشپ پروگرام متعارف کرایا گیا ہے۔
گھروں کی ملکیت میں نمایاں اضافہویژن 2030 کے ہاؤسنگ پروگرام کے تحت رہائشی قرضوں، تعمیراتی منصوبوں اور نئے خریداروں کی معاونت کے باعث گھروں کی ملکیت کی شرح 66.24 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2025 کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔
صحت اور معیارِ زندگی میں بہتری2024 میں اوسط عمر 79.7 سال تک پہنچ گئی، جبکہ 97.5 فیصد آبادی کو صحت کی سہولتیں میسر آ چکی ہیں۔
فی ایک لاکھ آبادی پر نرسوں کی تعداد 581.6 سے بڑھ کر 863.4 ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعدی بیماریوں سے اموات میں 50 فیصد کمی آئی۔ دائمی بیماریوں سے اموات میں 40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اقوام متحدہ کے اہداف سے بھی بہتر ہے۔ 70 فیصد سرطان کے کیسز ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو رہے ہیں، جس سے علاج کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کھیلوں اور صحت مند طرزِ زندگی کا فروغسعودی پرو لیگ، فارمولا ون سعودی گراں پری اور 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی جیسے منصوبوں نے سعودی عرب کو عالمی کھیلوں کا اہم مرکز بنا دیا ہے۔
2025 میں ریاض میں ہونے والے ای اسپورٹس ورلڈ کپ میں 30 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے جبکہ ٹکٹوں کی فروخت میں 53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
متعدد کھیلوں کی سہولت رکھنے والے کلبوں کی تعداد 9 سے بڑھ کر 133 ہو گئی، جبکہ خواتین کی کھیلوں میں شرکت بھی نمایاں طور پر بڑھی۔ ریاض میراتھن میں شرکت کرنے والی خواتین کی تعداد 3,500 سے بڑھ کر 15 ہزار تک پہنچ گئی۔
تفریح، ثقافت اور سیاحت میں ترقیجنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے تحت ملک بھر میں تفریحی سرگرمیوں، تھیٹر، سینما، کنسرٹس اور ثقافتی پروگراموں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
2025 میں سکس فلیگز قدیہ سٹی کا افتتاح کیا گیا جبکہ JAX فلم اسٹوڈیوز کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، جو سعودی فلمی صنعت میں اہم سرمایہ کاری تصور کیا جا رہا ہے۔
سیاحت کے فروغ کے لیے ای ویزا نظام نے بھی اہم کردار ادا کیا، جبکہ سعودی عرب کے 17 ریستوران اب مشیلن گائیڈ میں شامل ہو چکے ہیں۔
ثقافتی ورثے کا تحفظجدید ترقی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے اپنے تاریخی، ثقافتی اور اسلامی ورثے کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔
مملکت کے 8 تاریخی مقامات اب یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں، جو 2030 کا ہدف پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں۔
2025 میں بیرون ملک سے آنے والے عمرہ زائرین کی تعداد ایک کروڑ 80 لاکھ 30 ہزار تک پہنچ گئی، جو مقررہ ہدف سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ مکہ روٹ انیشی ایٹو کے ذریعے 12 لاکھ عازمین کو سہولت فراہم کی گئی۔
مستقبل کا لائحۂ عملرپورٹ کے مطابق ویژن 2030 کے اگلے مرحلے میں روزگار، رہائش، صحت، تعلیم، کھیل، ثقافت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں مزید پیشرفت پر توجہ دی جائے گی تاکہ مملکت کا ہر شہری اور رہائشی ترقی کے ثمرات سے یکساں طور پر مستفید ہو سکے۔
ویژن 2030 کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف اقتصادی اشاریے نہیں بلکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلیاں، بہتر ملازمتیں، معیاری رہائش، بہتر صحت اور ایک متحرک و خوشحال معاشرہ ہے، جس کی تعمیر سعودی عرب تیزی سے کر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی وژن 2030 سعودی ولی عہد محمد بن سلمان