اسلام آباد:

پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف 26 نومبر کو دیے گئے احتجاج کے سلسلے میں درج مختلف مقدمات میں انسداد دہشت گردی عدالت نے تمام عبوری ضمانتوں میں توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت 24 جون تک ملتوی کر دی۔

بانی پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، سینیئر وکیل سلمان اکرم راجہ، شیر افضل مروت، عمیر نیازی، علی بخاری اور دیگر رہنماؤں کی مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں عبوری ضمانتیں زیر سماعت ہیں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر تمام ملزمان کی جانب سے دلائل دیے جائیں گے اور تمام ضمانتوں پر ایک ساتھ سماعت کی جائے گی۔

آج کی سماعت میں شیر افضل مروت، عمیر نیازی اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ بشریٰ بی بی اور سلمان اکرم راجہ کی جانب سے حاضری سے استثنا کی درخواستیں دائر کی گئیں، جو عدالت نے منظور کر لیں۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف تھانہ کراچی کمپنی، کوہسار، مارگلہ، آبپارہ، ترنول اور سیکریٹریٹ میں مقدمات درج ہیں۔ بشریٰ بی بی کی تھانہ سیکرٹریٹ کے مقدمے میں ضمانت کی سماعت بھی 24 جون تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ان ہی مقدمات میں دیگر ملزمان کی ضمانتیں بھی مقرر ہیں، جنہیں ایک ساتھ سنا جانا چاہیے۔ عدالت نے ان دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے تمام ضمانتوں پر آئندہ سماعت 24 جون کو مقرر کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی عدالت نے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش