صوبہ سندھ کو لیبرل صنعتی پالیسی کی ضرورت ہے،صدر نکاٹی
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)سندھ کے بجٹ پر نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(نکاٹی) کے صدر فیصل معیز خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ سندھ کو لیبرل صنعتی پالیسی کی ضرورت ہے۔فیصل معیز خان نے تجویز کیا کہ شہر کے ساتوں صنعتی زونز کے لئے بجٹ میں رقم مختص کی جائے۔ صدر نکاٹی نے کہا کہ کمبائند ایفولنٹ پلانٹ صنعت کی ضرورت ہے، سیف سٹی منصوبے میں شہر کے ساتوں صنعتی زونز کو شامل کیا جائے۔،حیدرآباد سکھر موٹر وے کی تعمیر فوری کی جائے،اس منصوبے سے کراچی سمیت سندھ بھر کا معاشی رابطہ موثر ہوجائے گا،یہ منصوبہ تقریبا!144ارب روپے کی لاگت کا ہے مگر حیران کن بات یہ ہے کہ وفاق نے اس منصوبے کیلئے 15ارب روپے رکھے ہیں جو وفاق کا سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے عدم توجہ کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس آر بی کرپشن کا گڑھ ہے اس مسئلہ کو حل کیا جائے اور کراچی کے انفرااسٹرکچر کوجلد سے جلد درست بنانے کیلئے ترقیاتی منصوبے فوری شروع کئے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔