Juraat:
2026-06-03@04:46:01 GMT

(سندھ بجٹ)بے گھر افراد کیلیے 1ارب 19 کروڑکا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

(سندھ بجٹ)بے گھر افراد کیلیے 1ارب 19 کروڑکا اعلان

پارکس، لائبریریز اور کراچی زو کے لئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کیے گئے ،جرأت رپورٹ
گٹر باغیچہ پارک کی بحالی کے لئے 14 کروڑ 70 لاکھ، قبرستانوں کی تعمیر کیلیے40کروڑ

سندھ بجٹ میں کراچی کے پارکس، لائبریریز اور کراچی زو کے لئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، جبکہ نالوں سے بے گھر ہونے والوں کو آباد کرنے کے لئے ایک ارب 19 کروڑ روپے رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جرات کی رپورٹ کے مطابق محکمہ بلدیات سندھ کے تحت آئندہ مالی سال کی بجٹ میں ناظم آباد کی غالب تیموریہ لائبریری کی بحالی و خوبصورتی کے لئے 9 کروڑ 80 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں، لال قلعہ پارک عزیز آباد کی بحالی اور خوبصورتی کے لئے 18 کروڑ روپے خرچ ہونگے، کراچی زو کی بحالی اور خوبصورتی کے لئے 4 کروڑ روپے مختص ہوئے ہیں، بینظیر بھٹو پارک کے لئے ڈھائی کروڑ اور ملیر لائبریری کمیونٹی سینٹر کے لئے 8 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ ہونگے۔ ناظم آباد کے کھجی گرانڈ کی بحالی کے لئے 12 کروڑ اور شہر کے انڈر پاسز کے نیچے خوبصورتی، تفریحی اشیا کی فراہمی کے لئے 22 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، کڈنی ہل پارک میں پرندوں کے پنجرے کے لئے 20 کروڑ روپے مختص ہوئے ہیں، گٹر باغیچہ پارک کی بحالی کے لئے 14 کروڑ 70 لاکھ اور قبرستانوں کی تعمیر کے لئے 40 کروڑ روپے خرچ ہونگے، نارتھ ناظم آباد میں ضیا الدین اسپتال کے ہاکی گرانڈ کی تعمیر و بحالی کے لئے 35 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، گریٹر کراچی ریجنل پلان تیار کرنے کے لئے 20 کروڑ روپے مختص ہوئے ہیں۔ کراچی کے تین بڑے نالوں گجر، اورنگی اور محمود آباد نالوں سے متاثر ہونے والے لوگوں کو آباد کرنے کے لئے ایک ارب 19 کروڑ روپے خرچ ہونگے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: روپے خرچ ہونگے کروڑ روپے مختص بحالی کے لئے کی بحالی گئے ہیں

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود