بھارت بھر میں بجلی گرنے اور بارش سے 24 گھنٹوں میں 25 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
بھارت کی مختلف ریاستوں میں مون سون کی ابتدائی بارشوں کے دوران شدید گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں کم از کم 25 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ان میں زیادہ تر ہلاکتیں آسمانی بجلی گرنے سے ہوئیں۔ متاثرہ ریاستوں میں اتر پردیش، گجرات، دہلی، مہاراشٹر اور ہماچل پردیش شامل ہیں۔
اتر پردیش سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں متعدد اضلاع میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ بلیا ضلع میں 13 سالہ بچی بجلی گرنے سے جاں بحق ہوئی جبکہ 2 افراد زخمی ہو کر اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
بجنور میں 3 افراد جان سے گئے، جن میں 2 آسمانی بجلی گرنے اور ایک بچی نالے میں ڈوبنے سے ہلاک ہوئی۔ یہ واقعہ کرت پور تھانے کے علاقے رغغان میں پیش آیا، جہاں لاپتا بچی کی تلاش جاری ہے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں طوفانی بارش، آسمانی بجلی گرنے کے باعث 4 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
یمنانگر کے بارا علاقے کے سونبرسا گاؤں میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد رات گئے بجلی گرنے سے جاں بحق ہو گئے۔ اوریا ضلع میں بھی بجلی گرنے سے 3 افراد مارے گئے، جن میں ایک 16 سالہ نوجوان شامل ہے۔
ضلع سنبھل کے مولانپور ڈانڈا گاؤں میں کھیتوں میں کام کے دوران 6 افراد پر آسمانی بجلی گری، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان لڑکی جاں بحق اور دیگر شدید زخمی ہو گئے۔
وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اضلاع کے افسران کو زخمیوں کے لیے فوری طبی امداد اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے کی ہدایت دی ہے۔
گجرات کے راجکوٹ میں تیز بارش اور بجلی گرنے کے واقعے میں ایک شخص ہلاک اور 14 بکریاں کرنٹ لگنے سے مر گئیں۔ ویردواجڈی گاؤں میں شام ساڑھے 6 بجے اچانک بادل پھٹنے سے شہر میں پانی بھر گیا۔ پنچ محل ضلع کے ایک گھر میں بجلی گرنے سے آگ بھڑک اٹھی، تاہم جانی نقصان نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: شدید بارش اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں 4 افراد جاں بحق، سینکڑوں مویشی بھی ہلاک
دہلی میں تیز آندھی اور بارش سے صفدرجنگ انکلیو میں 100 فٹ بلند موبائل ٹاور گر گیا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ لیکن آر کے پورم میں درخت کی ٹہنی بجلی کی تاروں پر گرنے سے 2 نوجوان، رویندر اور بھارت، کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔ دونوں کا تعلق بہار سے تھا اور مقامی ہوٹل میں کام کرتے تھے۔
مہاراشٹر کے اضلاع رتناگیری، رائے گڑھ اور سندھدُرگ میں شدید بارش اور آسمانی بجلی کے واقعات میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہو گئے۔ ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق رتناگیری میں 24 گھنٹوں کے دوران 88.
محکمہ موسمیات نے ہماچل پردیش کے چمبہ، کانگڑا، کلّو، منڈی، شملہ، سولن اور سرمور میں اتوار سے بدھ تک گرج چمک، بجلی اور 40 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کی پیش گوئی کے ساتھ یلو الرٹ جاری کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
25 افراد آندھی انڈیا بارش بجلی بھارت ہلاک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 25 افراد ا ندھی انڈیا بجلی بھارت ہلاک آسمانی بجلی گرنے کے بجلی گرنے سے کے واقعات میں ایک ہو گئے
پڑھیں:
بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔
نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔
حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔
ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔
2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز