data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوالالمپور: ملائیشیا کی ریاست صباح میں طوفان کے نتیجے میں مٹی کے تودے گرنے سے 13 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ملائیشیا کی ریاست صباح میں شدید طوفان اور بارشوں کے نتیجے میں آنے والی مہلک لینڈ سلائیڈنگ سے 13 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جن میں 7 بچے بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ملائیشیا کی ریاست صباح میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران لینڈ سلائیڈنگ، فلیش فلڈنگ اور سڑکوں کے بیٹھ جانے کے تقریباً 90 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ محکمۂ موسمیات کی جانب سے نئے طوفان کی وارننگ کے بعد عوام مزید تباہی کے خدشات کے باعث شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔

عالمی میڈیا کے مطابق ریاستی دارالحکومت کوٹا کینا بالو کے نواحی علاقے کمپونگ چندرہ کا سِح میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں 4 معصوم بچے بھی شامل تھے جن کی عمریں 2 سے 9 سال کے درمیان تھیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسی طرح دارالحکومت سے تقریباً 40 کلومیٹر دور پاپر کے علاقے کمپونگ ماراگان تُن تُل میں مٹی کا تودہ گرنے سے ایک لکڑی کا مکان زمین بوس ہوگیا، جس کے نتیجے میں 34 سالہ خاتون اور ان کے دو بچے، جن کی عمریں 6 اور 10 برس تھیں، زندگی کی بازی ہار گئے۔

 حالیہ طوفان نے ریاست صباح کو گزشتہ 30 برس کی بدترین آفت سے دوچار کیا ہے، متاثرہ علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے 30 سے زائد واقعات ریکارڈ ہوئے جن کے باعث کئی اہم شاہراہیں مختلف مقامات سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئیں اور زمینی روابط بری طرح متاثر ہوئے۔

ریاست صباح کی تاریخ میں اس سے قبل 1996 میں آنے والے سیلاب کو سب سے بڑی تباہی قرار دیا گیا تھا جس میں 200 افراد جاں بحق اور درجنوں عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ سانحہ اموات اور نقصانات کے اعتبار سے ایک اور سنگین المیہ ثابت ہوا ہے، جس سے مقامی آبادی کو بڑے پیمانے پر مشکلات کا سامنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے نتیجے میں ریاست صباح کے مطابق

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی کے 2 اسٹریٹ کرمنلز مردان میں پولیس مقابلے میں ہلاک
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا