ویلنشیاء ٹاون لاہور میں سربمہر کی گئی امام بارگاہ کھول دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ویلنشیاء ٹاون سوسائٹی اور ایل ڈی اے نے آج صبح عمارت کو سربمہر کردیا تھا۔ ایل ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ سوسائٹی قوانین کے مطابق رہائشی عمارت کو کسی بھی دوسرے مقصد کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایل ڈی اے حکام نے مزید بتایا کہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی ہدایت پر عمارت کو سربمہر کیا گیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور کے علاقہ ویلنشیاء ٹاون کے، کے بلاک میں واقع امام بارگاہ و مدرسہ ’’جامعہ قرآن ناطق‘‘ کو کھول دیا گیا ہے۔ جامعہ قرآنِ ناطق میں نماز جمعہ سمیت مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ اہل علاقہ کی بڑی تعداد یہاں روزانہ نماز پنجگانہ کیلئے آتی ہے۔ ویلنشیاء ٹاون سوسائٹی اور ایل ڈی اے نے آج صبح عمارت کو سربمہر کردیا تھا۔ ایل ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ سوسائٹی قوانین کے مطابق رہائشی عمارت کو کسی بھی دوسرے مقصد کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایل ڈی اے حکام نے مزید بتایا کہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی ہدایت پر عمارت کو سربمہر کیا گیا تھا۔ ایل ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کے مالکان اور سوسائٹی کے درمیان معاملات طے کرنے کی یقین دہانی کے بعد عمارت کو کھول دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمارت کو سربمہر ایل ڈی اے حکام
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔