اسلام ٹائمز: رپورٹ کے مطابق ان فرار ہونے والوں کا پس منظر مختلف ہے کچھ وہ ہیں جو اسرائیل میں پھنس گئے تھے، کچھ بیرون ملک اپنے خاندان سے جا ملنے کے خواہاں ہیں، جبکہ کئی افراد نے مستقل طور پر اسرائیل چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک قابض شخص نے بتایا کہ وہ پرتگال میں اپنی ساتھی کے کہنے پر وہاں مستقل سکونت اختیار کرنا چاہتا ہے۔ قبرص کا یہ بحری سفر یاخٹ کی نوعیت اور رفتار کے مطابق 8 سے 25 گھنٹے پر محیط ہوتا ہے۔ حکومتی وارننگ کے باوجود ان مقامات کی جانب فرار کو روکنے کی کوشش دراصل غیرمنظم انخلا کی روک تھام اور نتن یاہو حکومت کی طرف سے استحکام کے تاثر کو قائم رکھنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

عبرانی اخبار ہارٹز نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیلی باشندوں کی ایک نئی کشیدگی سامنے آئی ہے، جس کے تحت سینکڑوں افراد اسرائیل چھوڑ کر قبرص کی جانب رخ کر رہے ہیں۔ یہ افراد پرائیویٹ کشتیوں کے ذریعے اسرائیلی بندرگاہوں جیسے ہرٹزیلیا، حیفا اور عسقلان سے خفیہ انداز میں روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ سفر نہ صرف مکمل رازداری میں کیا جا رہا ہے بلکہ اس پر ہزاروں شیکل خرچ ہو رہے ہیں۔

اخبار کے مطابق سوشل میڈیا پر بند گروپوں کے ذریعے ان بحری سفرات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان گروپوں میں شامل ہونے والے قابضین اپنی شناخت کو خفیہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سفر کسی آرام یا تفریح کی غرض سے نہیں بلکہ مجبوری اور شدید خوف کی کیفیت میں کیا جا رہا ہے۔ بعض افراد نے یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ ایرانی میزائلوں کے خطرے سے جان بچانے کے لیے فرار ہو رہے ہیں۔

اسرائیلی بندرگاہوں پر چھوٹے بیگ تھامے افراد کی آمد دیکھی جا رہی ہے، جو ان کشتیوں کی تلاش میں ہوتے ہیں جو قبرص کے شہر لارناکا کی جانب روانہ ہوتی ہیں۔ وہاں سے وہ دنیا کے دیگر حصوں کا رخ کرتے ہیں۔ اخبار نے ہرٹزیلیا کی بندرگاہ کا منظر ایک چھوٹے ہوائی اڈے کی روانگی کا منظر” قرار دیا، جہاں ایک وقت میں 100 سے زائد افراد کی روانگی دیکھی گئی۔ قابض حکام اس رحجان کے دائرہ کار کا اندازہ لگانے میں بھی ناکام نظر آتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان فرار ہونے والوں کا پس منظر مختلف ہے کچھ وہ ہیں جو اسرائیل میں پھنس گئے تھے، کچھ بیرون ملک اپنے خاندان سے جا ملنے کے خواہاں ہیں، جبکہ کئی افراد نے مستقل طور پر اسرائیل چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک قابض شخص نے بتایا کہ وہ پرتگال میں اپنی ساتھی کے کہنے پر وہاں مستقل سکونت اختیار کرنا چاہتا ہے۔ قبرص کا یہ بحری سفر یاخٹ کی نوعیت اور رفتار کے مطابق 8 سے 25 گھنٹے پر محیط ہوتا ہے۔

اس کی لاگت 2500 سے 6000 شیکل تک ہوتی ہے۔ اگرچہ اس سفر کے بدلے خطیر رقم کی پیشکش کی جاتی ہے، تاہم کئی کشتیوں کے کپتان ان غیرقانونی اور غیرلائسنس یافتہ سفروں میں شامل ہونے سے انکار کر چکے ہیں، کیونکہ یہ سفر بغیر کسی قانونی تحفظ کے ہوتا ہے اور اس میں خطرہ بہت زیادہ ہے۔ اس دوران قابض اسرائیلی حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت اسرائیلی شہریوں کو ان نجی فضائی پروازوں کے ذریعے سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

یہ ماضی میں بیرون ملک پھنسے افراد کی واپسی کے لیے مختص کی گئی تھیں۔ یہ فیصلہ ایرانی افواج کی جانب سے قابض کو فلسطینی سرزمین سے نکل جانے کی سخت وارننگ کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ "یہی ان کی جان بچانے کا واحد راستہ ہے۔ اگرچہ اس حکم نامے اور بڑے پیمانے پر ممکنہ فرار کے درمیان کوئی باضابطہ تعلق ظاہر نہیں کیا گیا، مگر اس فیصلے کا وقت ایسے علاقائی تناؤ کے بیچ آیا ہے جب ایران کی جانب سے ایک بڑے حملے کا خدشہ ہے۔

اس کے ساتھ ہی قابض اسرائیلی معاشرے میں عدم تحفظ اور ہلاکتوں میں بے پناہ اضافے کے سبب شدید بےچینی دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات میں ایتھنز اور لارناکا اسرائیلی باشندوں کے لیے ہمیشہ محفوظ پناہ گاہیں سمجھی گئی ہیں۔ تاہم حکومتی وارننگ کے باوجود ان مقامات کی جانب فرار کو روکنے کی کوشش دراصل غیرمنظم انخلا کی روک تھام اور نتن یاہو حکومت کی طرف سے استحکام کے تاثر کو قائم رکھنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔

عبرانی میڈیا کے اندازوں کے مطابق اس وقت 1 سے 2 لاکھ اسرائیلی شہری بیرون ملک موجود ہیں اور انہیں انخلا کی پروازوں کی ضرورت ہے۔ تاہم، گزشتہ دو دنوں میں شدید گولہ باری کے باعث ان پروازوں کے جمعرات سے قبل شروع ہونے کا امکان نہیں۔ ادھر قابض اسرائیلی افواج نے امریکی پشت پناہی سے جمعے کی صبح ایران پر بڑا حملہ کیا، جس میں جوہری تنصیبات، میزائل اڈوں، فوجی رہنماؤں اور سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اب تک 224 افراد شہید اور 1277 زخمی ہو چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قابض اسرائیلی بیرون ملک کے مطابق کی جانب رہے ہیں

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام