فلسطینی مزاحمتی فورسز نے اپنی تازہ مزاحمتی کارروائی میں خانیونس میں واقع قابض اسرائیلی فوج کے ہیڈ کوارٹر کو کامیابی کیساتھ نشانہ بنایا ہے اسلام ٹائمز۔ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں واقع اہم صیہونی اہداف کے خلاف الجہاد الاسلامی فی فلسطین کے عسکری ونگ سرایا القدس کے ہمراہ انجام پانے والے کامیاب مشترکہ آپریشن کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے بیان میں القسام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران خان یونس شہر کے جنوب میں واقع موراگ کوریڈور پر قابض اسرائیلی فوج کے ایک ہیڈ کوارٹر کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔ فلسطینی مزاحمت کے مطابق الجہاد الاسلامی فی فلسطین اور حماس کے مجاہدین نے قابض اسرائیلی فوج کے ہیڈکوارٹر کو متعدد مارٹر گولوں کے ساتھ براہ راست نشانہ بنایا۔

حماس و جہاد اسلامی فورسز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ آپریشن فلسطینی عوام و مزاحمت کے خلاف جاری غاصب صیہونی رژیم کے کھلے جنگی جرائم کا جواب ہے۔ قبل ازیں القسام نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ فلسطینی مجاہدین نے اگلے مورچوں سے واپسی کے بعد بتایا ہے کہ انہوں نے غزہ کے مشرقی شہر میں واقع الشجاعیہ محلے میں بھی متعدد غاصب صیہونی فوجیوں کو سنائپر گن کے ساتھ براہ راست طور پر نشانہ بنایا ہے۔ 

واضح رہے کہ یہ واقعہ 10 جولائی (3 ہفتے قبل) کا ہے اور چونکہ غزہ میں مختلف مزاحمتی یونٹس کے درمیان رابطہ معمول کے مطابق ممکن نہیں لہذا بعض صورتوں میں بعض علاقوں (خاص طور پر شمالی غزہ) کی صورتحال کے بارے اطلاع رسانی میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب عزالدین القسام فورسز نے غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس کے مشرق میں واقع القرارہ کے علاقے میں قابض اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں کو بھی متعدد مارٹر گولوں کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قابض اسرائیلی فوج کے نشانہ بنایا میں واقع کے ساتھ

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران