بلوچستان کا آئندہ مالی سال کے لیے1028 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
بلوچستان کا آئندہ مالی سال کے لیے1028 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کردیا گیا، ترقیاتی پروگراموں کے لیے 240 ارب روپے، غیرترقیاتی بجٹ 642 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں وزیرخزانہ شعیب نوشیروانی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے قلیل وقت میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، رواں مالی سال کا 100 فیصد ترقیاتی بجٹ استعمال کیا جاچکا ہے جس سے بلوچستان کے ترقیاتی کاموں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی بجٹ کا 21 فیصد سڑکوں، 18 فیصد آبپاشی، 13 فیصد تعلیم ، 8 فیصد صحت اور 2.
صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ 36 ارب 50 کروڑ روپے کا سرپلس بجٹ ہے، بجٹ میں محکمہ صحت کے مختلف منصوبوں اور نئی آسامیوں کیلئے ترقیاتی مد میں 16 ارب 40 کروڑ اور غیرترقیاتی مد میں 71ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
شعیب نوشیرانی نےکہا کہ حکومت کی ترجیحات میں تعلیم کا شعبہ سرفہرست ہے، محکمہ تعلیم کے لیے 1170کنٹریکٹ،67 ریگولر آسامیاں تخلیق کی گئیں، رواں مالی سال میں ای سی ای اور اسکول ایجوکیشن کے لیے 28 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، گلوبل پارٹنرشپ ایجوکیشن گرانٹ کے تحت تعلیم میں مزید بہتری اصلاحات کے لیے 6 ارب 70 کروڑ روپے کی گرانٹس مختص کی گئی ہیں.
انہوں نے کہاکہ آئندہ مالی سال میں 1200 سے زائد اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں، آئندہ بجٹ میں اسکول ایجوکیشن کے لیے ترقیاتی مد میں 19ارب 80 کروڑ اور غیرترقیاتی مد میں 101 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ ہائیر ایجوکیشن اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لیے رواں مالی سال 22 ارب 81 کروڑ روپے رکھے گئے تھے، اس سال جامعات کےبجٹ میں 100 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شعبہ کالجزکے غیرترقیاتی بجٹ کیلئے 24ارب اور ترقیاتی امور کیلئے 5ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں ایک ہزار ملین روپے کی رقم میرچاکر خان یونیورسٹی کے سب کیمپس کو فعال بنانے کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ زراعت کے شعبے کے ترقیاتی امور کیلئے 10ارب،غیرترقیاتی امور کیلئے 16ارب 77کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ا ئندہ مالی سال ترقیاتی مد میں رواں مالی سال روپے مختص کیے ارب روپے مختص ترقیاتی بجٹ مالی سال کے کروڑ روپے نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔