رواں مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ میں نمایاں بہتری
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
پاکستان کی معیشت کے لئے خوش آئند خبر، مالی سال 25-2024 کے ابتدائی 11 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ میں ایک ارب 81 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعداد و شمار جاری کر دیئے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال 2023 میں اسی مدت کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ میں ایک ارب 57 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا خسارہ ہوا تھا۔
رپورٹ کے مطابق مئی 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ 10 کروڑ 30 لاکھ ڈالر خسارے میں رہا، تاہم اپریل 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سرپلس رہا تھا۔
گزشتہ سال مئی 2023 میں کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا، جس کے مقابلے میں موجودہ صورتحال کو مثبت پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرنٹ اکاو نٹ میں میں کرنٹ اکاو نٹ لاکھ ڈالر مالی سال
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔