ریاست کا خزانہ یا خاندانی ورثہ؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
یاریاست یا کارٹل؟پاکستان کا حالیہ وفاقی بجٹ عوامی بجٹ کم اور اشرافیہ کا جشنِ مراعات زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ اس بجٹ میں جن طبقات کو ریلیف ملنا چاہیے تھا ان کی جھولی خالی رہی جبکہ حکمران اشرافیہ کی جھولیاں بے دریغ سرکاری خزانے سے بھر دی گئیں۔ وزیراعظم، وفاقی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کے لیے کروڑوں روپے کی اضافی مراعات دی گئیں۔ چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں سات سو فیصد اضافہ جبکہ عوام کو ایک بار پھر ٹیکسوں کے کوڑے مار کر معاشی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔بجٹ میں سب سے زیادہ چونکا دینے والا پہلو وزیراعظم شہباز شریف کے سرکاری رہائش گاہ کے اخراجات میں اضافہ ہے۔ گزشتہ برس یہ اخراجات 72 کروڑ روپے تھے جو اب بڑھا کر 86 کروڑ روپے کر دیے گئے ہیں۔ ایسے میں جب ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ وزیراعظم ہائوس کے لئے9 کروڑ روپے گاڑیوں، 4کروڑ 48لاکھ روپے باغیچے، 1کروڑ 44 لاکھ روپے ڈسپنسری اور 60 لاکھ روپے غیر ملکی دوروں کے لیے مختص کئے گئے ہیں۔مزید ستم ظریفی یہ کہ وزیراعظم چیریٹی کے نام پر بھی 42 لاکھ روپے کا بجٹ مانگ رہے ہیں۔
اس بجٹ میں تقریبا ً2ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس لگا دئیے گئے ہیں ۔ یہ ٹیکس براہِ راست ان طبقات پر اثر انداز ہوں گے جو پہلے ہی مہنگائی، بیروزگاری اور بنیادی سہولیات کی قلت کا شکار ہیں۔ دوسری طرف حکومتی وزرا اور مشیروں کی مراعات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ وزرا و وزرائے مملکت کا بجٹ 27کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ 54 لاکھ روپے، مشیروں کا بجٹ 3 کروڑ 61لاکھ سے بڑھا کر 6کروڑ 31لاکھ روپے، اور معاونین خصوصی کا بجٹ 3 کروڑ 70 لاکھ سے بڑھا کر 11کروڑ 34لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حکمران طبقہ ریاست کے خزانے کو اپنا خاندانی ورثہ سمجھتا ہے جہاں سے وہ حسبِ ضرورت بے نیازی سے اپنی مراعات نکالتا ہے۔قومی اسمبلی کا بجٹ آئندہ مالی سال میں 28 فیصد اضافے کے ساتھ 16 ارب 29 کروڑ روپے تک جا پہنچا ہے جبکہ سینیٹ کا بجٹ بھی 7 ارب 24 کروڑ روپے سے بڑھا کر 9 ارب 55 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ یہ وہی ایوان ہیں جہاں قانون سازی کا معیار دن بہ دن زوال پذیر ہے، اجلاسوں میں اراکین کی حاضری شرمناک حد تک کم ہو تی ہے اور عوامی مسائل پر بحث مفقود ہے۔ ان ایوانوں کے نمائندے جو خود کو عوام کا منتخب کردہ نمائندہ کہتے ہیں آج عوام سے کہیں زیادہ اپنے مفادات کے نمائندے بن چکے ہیں۔کابینہ ڈویژن کے لیے 68 کروڑ 87 لاکھ روپے اور سینٹرل کار پول کے لیے 62 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ کیا یہ وہی ریاست نہیں جہاں ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں ملتیں اسکولوں کی چھتیں گر رہی ہیں اور تھانوں میں انصاف نیلام ہوتا ہے؟ مگر حکومتی گاڑیوں کے لیے کروڑوں کی مالیت کے فنڈز موجود ہیں۔حکمران بارہا ’’اسلامی ریاست‘‘اور یورپ کی مثال دیتے ہیں۔ مگر کیا اسلامی ریاستِ میں خلیفہ وقت بیت المال سے اپنے لیے کوئی شاہانہ خرچ لیتا تھا؟ کیا حضرت عمرؓ کے دور میں کوئی حاکم عوام سے زیادہ مراعات یافتہ ہوتا تھا؟ اگر ہم واقعی ان اصولوں پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو عمل کہاں ہے؟ سادگی کہاں ہے؟ کفایت شعاری کہاں ہے؟ہمارے حکمران یورپ کی مثالیں دیتے بھی نہیں تھکتے۔ عوام کو باور کرایا جاتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ باقاعدگی سے ٹیکس دیتے ہیں۔ مگر کیا وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہاں کے حکمران خود بھی انتہائی سادہ زندگی گزارتے ہیں؟ ناروے، ڈنمارک، سویڈن اور ہالینڈ جیسے ممالک کے وزرائے اعظم سائیکل پر دفتر آتے ہیں۔ برطانیہ میں وزیراعظم عام سرکاری گھر میں رہتا ہے اور سخت میڈیا احتساب کا سامنا کرتا ہے۔ پاکستان میں تو حکمران طبقہ عوام سے قربانی کا مطالبہ کر کے خود عیاشیوں کے مزے لیتا ہے۔بجٹ کی یہ صورت حال اس بات کی غماز ہے کہ ہمارے معاشی مسائل کا حل محض ٹیکس وصولی نہیں بلکہ ریاستی اخراجات میں حقیقی کمی ہے۔ جب تک حکمران خود سادگی اختیار نہیں کرتے عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ کیا قربانی صرف عام شہریوں کا مقدر ہے؟ کیا حکمران طبقہ اس ملک کا بوجھ بانٹنے کو تیار نہیں؟یہ کڑوی حقیقت ہے کہ جب عوام مسلسل قربانیاں دیتی رہے اور حکمران مراعات سمیٹتے رہیں تو ایک دن عوام خود حساب لینے نکلتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایسی بے حس اشرافیہ کا انجام کبھی بھی خوشگوار نہیں ہوا۔قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن جماعتوں کی حالت نہایت افسوسناک ہے۔انہیں تو غرض ہی نہیں کہ عوام مریں یا جئیں۔اپوزیشن کا کردار جہاں مثبت ہوتا تھا اور وہ بجٹ سمیت دیگر امور میں اپنا کردار ادا کرتی تھے اب خالی اپنی تنخواہوں اور مراعات کی حد تک محدود ہو گئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے خود کو ایک سنجیدہ سیاست دان کی بجائے محض ایک جذباتی اور غیر ذمے دار مقرر کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کا سارا بیانیہ ذاتی مفادات، سیاسی انتقام اور ریاست مخالف جذبات پر مبنی ہے۔ پی ٹی آئی کی سیاست اب ملکی سلامتی اور وقار سے زیادہ اپنی قیادت کی ذات کے گرد گھومتی ہے۔ آئے روز ایسے بیانات دیے جاتے ہیں جن سے دشمن قوتوں کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اپوزیشن کا کردار جمہوری نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہاں اپوزیشن نے اس ذمے داری کو مذاق بنا دیا ہے۔دوسری جانب بجٹ کی موجودہ صورت حال ہمارے معاشی نظام کی خستہ حالی کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ٹیکسوں کی بھرمار سے معیشت نہیں سنبھلتی جب تک ریاستی اخراجات میں حقیقی کمی نہ کی جائے۔ حکمران طبقے کی عیاشی اور عوام پر قربانی کا مسلسل تقاضا ایک ایسا عدم توازن پیدا کر رہا ہے جو کسی بھی وقت تباہ کن صورت اختیار کر سکتا ہے۔ عوام اگر ہر سال نئی مشکلات جھیلیں اور اشرافیہ بدستور مراعات سمیٹے تو پھر ایک وقت آتا ہے جب عوام خود انصاف کا ترازو سنبھال لیتی ہے۔ تاریخ نے کئی بار دکھایا ہے کہ ایسی بے حس حکمرانی کا انجام ہمیشہ ذلت، پشیمانی اور عوامی ردعمل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔یہ بجٹ ایک معیشت زدہ قوم کے لیے کسی امید کی کرن نہیں بلکہ اشرافیہ کی خود غرضی کا واضح اعلان ہے۔ اس میں عوام کی فلاح، مہنگائی کا حل، روزگار کے مواقع یا تعلیم و صحت کے لیے کوئی انقلابی اقدام نہیں۔ یہ محض اختیارات، مراعات اور پرتعیش زندگی کے تحفظ کی دستاویز ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی سے بڑھا کر لاکھ روپے کروڑ روپے سے زیادہ گئے ہیں کے لیے کا بجٹ
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔