شخصیت پرستی کی قومی سیاست کا تضاد
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
پاکستانی سیاست کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ شخصیات کے گرد کھڑی ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہاں ادارہ سازی کے بجائے افراد زیادہ مضبوط ہوتے ہیں ۔ یہ کھیل محض سیاست تک محدود نہیں بلکہ ہر شعبے تک اس کی شکلیں دیکھ سکتے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے منشور کے بجائے شخصیات کو اہمیت دی جارہی ہے۔ اگر ہم پاکستان کو دیکھیں تو ہمیں ایسے لگتا ہے جیسے قومی سیاست میں شخصیات بہت زیادہ غالب ہو گئی ہیں اور سیاست ان تک محدود ہے۔
شخصیات کا سیاست میں بالادست ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہے لیکن جب شخصیات کا قد اداروں سے بڑھ جائے تو پھر اداروں کی اہمیت کا کم ہونا زیادہ سنگین مسئلہ بن جاتا ہے۔کیونکہ ہم اپنے اجتماعی فیصلے آئین ، قانون، سیاست اور جمہوریت کے تناظر میں کرنے کے بجائے اپنی سیاسی جماعت کی شخصیت کے سیاسی مفادات کو سامنے رکھ کر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نواز شریف ہوں یا بانی تحریک انصاف، آصف علی زرداری یا مولانا فضل الرحمن یا شہباز شریف یہ سب اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن اصولی طور پر ان کی اہمیت سیاسی کارکنوں کی وجہ ہوتی ہے ۔
اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ ہم شخصیات کو اس لیے مضبوط کرتے ہیں تاکہ جان بوجھ کر جمہوری اداروں کو کمزور کیا جا سکے۔ جمہوری اداروں کی بالادستی بنیادی طور پر احتساب اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کی بنیاد پر ہوتی ہے مگر اس کے لیے ہماری سیاسی قیادت تیار نہیں ہے اور یہ سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ دیگر طاقتور طبقات بھی خود کو جواب دہ بنانے کے لیے تیار نہیں ۔
شخصیت پرستی کی بنیاد اگر نفرت، تعصب اور منفی بنیادوں پر یا شدت پسندی سمیت جنونیت پر ہوگی تو اس سے قومی سیاست کے اندر اور زیادہ مسائل گہرے ہو جائیں گے۔یہ سب کچھ اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ ہماری ترجیحات میں سیاست اور جمہوریت کی مضبوطی کا عمل کہیں کہیں دھندلا نظر آتا ہے۔
ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم سیاست کے ریموٹ کنٹرول کو اپنے ہاتھ میں رکھیں اور اس میں طاقت کا جو ارتکاز ہے وہ بھی ہمارے اپنے ہاتھ میں رہے۔شخصیت پرستی کا یہ جنون جان بوجھ کر سیاسی جماعتیں معاشرے میں پھیلاتی ہیں تاکہ وہ اپنی ورکروں کو یا اپنے کارکنوں کو نفرت اور محبت کے درمیان استعمال کر سکیں۔اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نہ صرف سیاسی جماعتوں کے اندر بلکہ سیاسی جماعتوں سمیت باقی معاشرے کے دیگر طبقات میں جو خلیج ہے وہ بڑھ رہی ہے۔
اس کا ایک اور بڑا نقصان ہم قومی سیاست میں جو مسائل ہیں ان کی درجہ بندی میں دیکھ رہے ہیں اور ایسے لگتا ہے جیسے ہماری ترجیحات قومی مسائل نہیں بلکہ غیر ضروری مسائل میں الجھ کر قوم کو مزید مشکل میں ڈالنا ہے۔سیاست میں اختلافات کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے اور یہ ہی جمہوریت کا حسن ہے۔لیکن جب اختلافات کو شدت پسندی کی بنیاد پر دشمنی کے ساتھ جوڑ دیا جائے اور اس میں شخصیت پرستی کا سیاسی کارڈ کھیلا جائے گا تو اس کے منفی اثرات کا مرتب ہونا فطری امر ہے۔
بنیادی طور پر پاکستان میں شخصیت پرستی کو کمزور کرنے کے حوالے سے اہل دانش کی سطح پر بھی کوئی بڑا کام نہیں ہو سکا۔کیونکہ جو کام اہل دانش نے اپنی سطح پر انفرادی یا اجتماعی سطح پہ کرنا تھا اس کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں دی جا سکی، سیاسی جماعتوں میں اپنے سیاسی مخالفین کو دشمن بنا کر پیش کرنے کا رواج بتدریج بڑھ رہا ہے۔
یہ خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ہم قومی سیاست کی ترتیب میں منفی پہلوؤں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔جب کہ مثبت عمل ہماری قومی ترجیحات کا حصہ نہیں بن سکے۔شخصیت پرستی سے نمٹنے کے لیے ہمیں بنیادی طور پر اہل دانش کی سطح پر یا علمی اور فکری بنیادوں پر زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔مگر یہ کام کسی سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کے اندر تمام طبقات مل جل کر انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایسا لائحہ عمل مرتب کریں کہ وہ لوگوں کے سیاسی اور سماجی شعور کو آگے بڑھائیں ۔
شخصیت پرستی کا یہ کھیل پاکستان کی قومی سیاست کے اندر ایک بانجھ پن کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔جس سے نئی قیادت کا ابھرنا اور نئے سیاسی تصورات کا ابھرنا بھی ممکن نہیں رہا۔جب کہ پوری دنیا اس وقت تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے اور جدید سیاسی نظام اور جدید تصورات اور جدید ٹیکنالوجی کے تصورات عالمی سیاست پر غالب ہیں۔ تو ہمیں بھی اپنی سوچ اور فکر کو نئے خیالات کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔کیونکہ اگر ہم نے اپنے آپ کو نئے حالات کے ساتھ نہ جوڑا تو پھر ایسے میں ہماری سیاست کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔یہ صدی شخصیت پرستی کے مقابلے میں اجتماعیت کی صدی ہے۔
اس لیے ہمیں شخصیت پرستی کے گرد دائرہ لگانے کے بجائے کردار سازی پر توجہ دینی ہوگی۔ شخصیت پرستی کا ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ سچ اور جھوٹ کی تمیز کو ختم کر دیتا ہے۔لوگوں کو پوجا پرستی کی طرف مائل کرتا ہے اور ان میں اندھی تقلید کو فروغ دیتا ہے۔جو معاشرے میں کشادہ ذہن بنانے کے بجائے اسے تنگ نظری کی طرف لے کر جاتا ہے۔ہمارے تعلیمی، سماجی، علمی اور فکری نظام کی سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ اس نے شخصیت پرستی کے معاملے میں کوتاہی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کو ایک بہت بڑے جن کے طور پر پیش کیا ہے۔
اس کے حق میں اہل دانش کی طرف سے بڑی بڑی دلیلیں دی جاتی ہیں اور اس کا جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ایسے لگتا ہے کہ جیسے ہم دنیا کے تجربات سے سیکھنے کے لیے کچھ بھی تیار نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم نے خود کو ماضی کی غلطیوں سے جوڑا ہوا ہے یہ جو ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی یا تنگ نظری ہے اس کی ایک بڑی وجہ شخصیت پرستی ہے۔ اس شخصیت پرستی نے ہمارے سیاسی، سماجی، معاشی اور انتظامی ڈھانچوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔لیکن اس کا علاج ہماری ترجیحات کا حصہ نظر نہیں آ رہا۔اس لیے اس پر زیادہ غور ہونا چاہیے کہ ہم شخصیت پرستی کے کھیل میں کیسے خود کو باہر نکال سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شخصیت پرستی کے شخصیت پرستی کا سیاسی جماعتوں قومی سیاست سیاست میں اہل دانش کے بجائے ہے کہ ہم کے اندر لگتا ہے اس لیے ہے اور کے لیے اور اس کی طرف رہا ہے
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔