Express News:
2026-07-24@05:04:31 GMT

شخصیت پرستی کی قومی سیاست کا تضاد

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

پاکستانی سیاست کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ شخصیات کے گرد کھڑی ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہاں ادارہ سازی کے بجائے افراد زیادہ مضبوط ہوتے ہیں ۔ یہ کھیل محض سیاست تک محدود نہیں بلکہ ہر شعبے تک اس کی شکلیں دیکھ سکتے ہیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے منشور کے بجائے شخصیات کو اہمیت دی جارہی ہے۔ اگر ہم پاکستان کو دیکھیں تو ہمیں ایسے لگتا ہے جیسے قومی سیاست میں شخصیات بہت زیادہ غالب ہو گئی ہیں اور سیاست ان تک محدود ہے۔

 شخصیات کا سیاست میں بالادست ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہے لیکن جب شخصیات کا قد اداروں سے بڑھ جائے تو پھر اداروں کی اہمیت کا کم ہونا زیادہ سنگین مسئلہ بن جاتا ہے۔کیونکہ ہم اپنے اجتماعی فیصلے آئین ، قانون، سیاست اور جمہوریت کے تناظر میں کرنے کے بجائے اپنی سیاسی جماعت کی شخصیت کے سیاسی مفادات کو سامنے رکھ کر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نواز شریف ہوں یا بانی تحریک انصاف، آصف علی زرداری یا مولانا فضل الرحمن یا شہباز شریف یہ سب اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن اصولی طور پر ان کی اہمیت سیاسی کارکنوں کی وجہ ہوتی ہے ۔

اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ ہم شخصیات کو اس لیے مضبوط کرتے ہیں تاکہ جان بوجھ کر جمہوری اداروں کو کمزور کیا جا سکے۔ جمہوری اداروں کی بالادستی بنیادی طور پر  احتساب اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کی بنیاد پر ہوتی ہے مگر اس کے لیے ہماری سیاسی قیادت تیار نہیں ہے اور یہ سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ دیگر طاقتور طبقات بھی خود کو جواب دہ بنانے کے لیے تیار نہیں ۔

شخصیت پرستی کی بنیاد اگر نفرت، تعصب اور منفی بنیادوں پر یا شدت پسندی سمیت جنونیت پر ہوگی تو اس سے قومی سیاست کے اندر اور زیادہ مسائل گہرے ہو جائیں گے۔یہ سب کچھ اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ ہماری ترجیحات میں سیاست اور جمہوریت کی مضبوطی کا عمل کہیں کہیں دھندلا نظر آتا ہے۔

ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم سیاست کے ریموٹ کنٹرول کو اپنے ہاتھ میں رکھیں اور اس میں طاقت کا جو ارتکاز ہے وہ بھی ہمارے اپنے ہاتھ میں رہے۔شخصیت پرستی کا یہ جنون جان بوجھ کر سیاسی جماعتیں معاشرے میں پھیلاتی ہیں تاکہ وہ اپنی ورکروں کو یا اپنے کارکنوں کو نفرت اور محبت کے درمیان استعمال کر سکیں۔اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نہ صرف سیاسی جماعتوں کے اندر بلکہ سیاسی جماعتوں سمیت باقی معاشرے کے دیگر طبقات میں جو خلیج ہے وہ بڑھ رہی ہے۔

اس کا ایک اور بڑا نقصان ہم قومی سیاست میں جو مسائل ہیں ان کی درجہ بندی میں دیکھ رہے ہیں اور ایسے لگتا ہے جیسے ہماری ترجیحات قومی مسائل نہیں بلکہ غیر ضروری مسائل میں الجھ کر قوم کو مزید مشکل میں ڈالنا ہے۔سیاست میں اختلافات کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے اور یہ ہی جمہوریت کا حسن ہے۔لیکن جب اختلافات کو شدت پسندی کی بنیاد پر دشمنی کے ساتھ جوڑ دیا جائے اور اس میں شخصیت پرستی کا سیاسی کارڈ کھیلا جائے گا تو اس کے منفی اثرات کا مرتب ہونا فطری امر ہے۔

بنیادی طور پر پاکستان میں شخصیت پرستی کو کمزور کرنے کے حوالے سے اہل دانش کی سطح پر بھی کوئی بڑا کام نہیں ہو سکا۔کیونکہ جو کام اہل دانش نے اپنی سطح پر انفرادی یا اجتماعی سطح پہ کرنا تھا اس کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں دی جا سکی، سیاسی جماعتوں میں اپنے سیاسی مخالفین کو دشمن بنا کر پیش کرنے کا رواج بتدریج بڑھ رہا ہے۔

یہ خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ہم قومی سیاست کی ترتیب میں منفی پہلوؤں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔جب کہ مثبت عمل ہماری قومی ترجیحات کا حصہ نہیں بن سکے۔شخصیت پرستی سے نمٹنے کے لیے ہمیں بنیادی طور پر اہل دانش کی سطح پر یا علمی اور فکری بنیادوں پر زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔مگر یہ کام کسی سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کے اندر تمام طبقات مل جل کر انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایسا لائحہ عمل مرتب کریں کہ وہ لوگوں کے سیاسی اور سماجی شعور کو آگے بڑھائیں ۔

شخصیت پرستی کا یہ کھیل پاکستان کی قومی سیاست کے اندر ایک بانجھ پن کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔جس سے نئی قیادت کا ابھرنا اور نئے سیاسی تصورات کا ابھرنا بھی ممکن نہیں رہا۔جب کہ پوری دنیا اس وقت تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے اور جدید سیاسی نظام اور جدید تصورات اور جدید ٹیکنالوجی کے تصورات عالمی سیاست پر غالب ہیں۔ تو ہمیں بھی اپنی سوچ اور فکر کو نئے خیالات کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔کیونکہ اگر ہم نے اپنے آپ کو نئے حالات کے ساتھ نہ جوڑا تو پھر ایسے میں ہماری سیاست کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔یہ صدی شخصیت پرستی کے مقابلے میں اجتماعیت کی صدی ہے۔

اس لیے ہمیں شخصیت پرستی کے گرد دائرہ لگانے کے بجائے کردار سازی پر توجہ دینی ہوگی۔ شخصیت پرستی کا ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ سچ اور جھوٹ کی تمیز کو ختم کر دیتا ہے۔لوگوں کو پوجا پرستی کی طرف مائل کرتا ہے اور ان میں اندھی تقلید کو فروغ دیتا ہے۔جو معاشرے میں کشادہ ذہن بنانے کے بجائے اسے تنگ نظری کی طرف لے کر جاتا ہے۔ہمارے تعلیمی، سماجی، علمی اور فکری نظام کی سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ اس نے شخصیت پرستی کے معاملے میں کوتاہی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کو ایک بہت بڑے جن کے طور پر پیش کیا ہے۔

اس کے حق میں اہل دانش کی طرف سے بڑی بڑی دلیلیں دی جاتی ہیں اور اس کا جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ایسے لگتا ہے کہ جیسے ہم دنیا کے تجربات سے سیکھنے کے لیے کچھ بھی تیار نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم نے خود کو ماضی کی غلطیوں سے جوڑا ہوا ہے یہ جو ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی یا تنگ نظری ہے اس کی ایک بڑی وجہ شخصیت پرستی ہے۔ اس شخصیت پرستی نے ہمارے سیاسی، سماجی، معاشی اور انتظامی ڈھانچوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔لیکن اس کا علاج ہماری ترجیحات کا حصہ نظر نہیں آ رہا۔اس لیے اس پر زیادہ غور ہونا چاہیے کہ ہم شخصیت پرستی کے کھیل میں کیسے خود کو باہر نکال سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شخصیت پرستی کے شخصیت پرستی کا سیاسی جماعتوں قومی سیاست سیاست میں اہل دانش کے بجائے ہے کہ ہم کے اندر لگتا ہے اس لیے ہے اور کے لیے اور اس کی طرف رہا ہے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف