Islam Times:
2026-06-03@07:04:11 GMT

ایرانی مزاحمت میں شیعہ سیاسی تاریخ اور کربلا کے اثرات

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

ایرانی مزاحمت میں شیعہ سیاسی تاریخ اور کربلا کے اثرات

اسلام ٹائمز: ایران عراق جنگ کے دوران ایک خاتون اپنے چار فرزند شہید کروانے کے بعد کہتی ہے کہ کاش میرے مزید بیٹے ہوتے تو میں انھیں بھی اسلام پر قربان کر دیتی۔ 13 جون 2025ء کو جو ایرانی جرنیل اور سائنسدان اسرائیل نے شہید کیے، تقریباً سبھی ایران عراق کی جنگ کے دوران شہادت کا شوق لیے میدان میں اترے تھے، تاہم خدا نے انکو بعد کیلئے محفوظ رکھا۔ یہ جرنیل ایک ہی خواہش رکھتے تھے کہ خداوند کریم ہمیں ہمارے ساتھیوں سے ملا دے۔ خدا نے انکی آرزو پوری کر دی۔ اب بھی ایران میں ایسے لاکھوں افراد موجود ہیں، جو اسی جذبے کے ساتھ زندہ ہیں، حتی کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای بھی انہی افراد میں سے ایک ہیں، جو ایران عراق جنگ کی باقیات ہیں۔ تحریر: سید اسد عباس

کسی بھی دستیاب ذریعے سے اپنے اہداف کو حاصل کرنا، اس کے لیے ظلم کرنا، کسی کو قتل کرنا، غصب کرنا، لوٹ مار کرنا اور اس کے برعکس اہداف کے حصول کے ذریعے ظلم سے اجتناب، یہ انسان کی فکری بنیادوں سے متعلق چیزیں ہیں۔ اگر کوئی شخص ظلم کر رہا ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ وہ جس بھی نظری یا فکری سسٹم سے متعلق ہے، اس میں یا تو ظلم بری چیز نہیں یا وہ درحقیقت اس سسٹم پر عمل پیرا ہی نہیں ہے۔ ظلم دنیا کے کسی بھی مذہب میں روا نہیں ہے۔ یہودیت، مسیحیت، اسلام، بدھ مت، ہندو مت کسی بھی مذہب کی تعلیمات کو اٹھا لیجیے، ظلم ہر مذہب میں مذموم ہے۔ اس کے باوجود ان کے مذاہب کے ظاہراً نام لیوا ظلم کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو اس بات کی بین دلیل ہے کہ یا تو مذہب کی تشریح میں کوئی مسئلہ ہے یا پھر ظالم درحقیقت کسی اور فکری و عقیدتی نظام کی پیروی کر رہا ہے۔

ظلم نہ کرنا اور ظلم کے خلاف قیام کرنا بھی ایسا ہی ہے، اس کا تعلق بھی انسان کے فکری نظام سے ہے۔ آج دنیا میں ظلم کے خلاف قیام کرنے والے افراد کسی نہ کسی فکری سلسلے سے وابستہ ہیں۔ اسلام مسلمانوں کو ظلم کے خلاف قیام اور مظلومین کی مدد کے لیے جہاد کی دعوت دیتا ہے اور اس کی سب سے برتر یا کامل ترین مثال واقعہ عاشورہ ہے۔ "مثلی لا یبایع مثله" (میرے جیسا کبھی اس (یزید) جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا)۔ "ھیھات من الذلۃ" (ذلت ہم سے دور ہے)۔ کربلا ظلم کے خلاف قیام، عدل کی طلب اور طاغوتی قوتوں سے نفرت جیسے نظریات کی عملی تفسیر ہے۔ یہ وہ درسگاہ ہے، جو انسان کو سکھاتی ہے کہ دینی اقدار کے لیے کیا بچایا اور کیا قربان کیا جانا چاہیئے۔

ہم جانتے ہیں کہ ایران ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے، جہاں کے مرد و زن دنیا میں آمد سے لے کر لحد میں اترنے تک کربلا سے جڑے رہتے ہیں۔ مجالس، عزاداری، تعزیہ داری، نیاز و سبیل، تاریخ تشیع اور سب سے بڑھ کر کربلا ایرانی معاشرے کی ذہنی ساخت، افکار اور اعمال کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شیعہ آئمہ کی تاریخ ان کی مختلف مظالم کے مقابل مزاحمت شیعی فکر اور سوچ کا حصہ ہے۔ شیعہ بچہ یہ سنتے ہوئے جوان ہو جاتا ہے کہ ہمارے آئمہ نے ہر ظالم و جابر کے خلاف قیام کیا اور جان کی پروا نہ کرتے ہوئے ہمیشہ کلمہ حق کو بلند رکھا۔ شیعہ جن شخصیات کی پیروی کرتے ہیں، وہ سب کے سب یا زندانوں میں زہر سے قتل ہوئے یا میدان جنگ میں اپنے خون سے نہائے۔

یہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ مجالس و عزاداری تو دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ہے، مگر وہاں کے اجتماعی رویوں پر اس کے اثرات کیوں نہیں۔ یہ درست نہیں ہے کہ مجلس و عزاداری انسانی فکر کو ضرور متاثر کرتی ہے، مجلس و عزاداری سے جڑا ہوا شخص کبھی بھی ظلم کو پسند نہیں کرے گا، ظلم کرنے سے اجتناب کرے گا، اگر وہ کوئی غلطی انجام دیتا بھی ہے تو احساس ندامت اسے جینے نہیں دیتا۔ یہ ذکر حسین ؑ کے معجزات میں سے ایک ہے، جو صدیوں سے ہر لمحہ ظہور کرتا ہے۔ اہل فارس کا ایک تاریخی پس منظر ہے، یہ ایک بڑی تہذیب تھی، قومی افتخار پر مرمٹنے والے، تشیع اور عزاداری نے اس قوم کے فکری نظام کو جلا بخشی، امام خمینی نے اس قوم کے سامنے کربلا کی تشریح کچھ اس انداز سے کی کہ یہ قوم ایک ناقابل تسلیم قوت کے روپ میں سامنے آئی۔

ایران کے روحانی پیشوا، رہبر انقلاب امام خمینی نے اپنے انقلاب کو متعدد مقامات پر کربلا کا فیض قرار دیا۔ امام خمینی نے فرمایا "ما ملت حسینیم" (ہم امام حسین ؑ کی قوم ہیں)، "کل یوم عاشورا، کل ارض کربلا" (ہر دن عاشورا ہے اور ہر زمین کربلا کی سرزمین ہے)، "نہضت ما، پرتوی از نہضت امام حسین است" (ہماری یہ تحریک امام حسین ؑ کی تحریک کا ایک کرن ہے)،" امام حسین به ما آموخت که در برابر ظلم و ستم باید ایستادگی کرد، ولو آنکه جمعیت ما کم باشد" (امام حسین ؑ نے ہمیں سکھایا کہ ہم ظلم کے مقابل کھڑے رہیں، خواہ ہماری تعداد کم ہو)، "ہمارا رہبر وہ 13 سالہ بچہ ہے، جو اپنے چھوٹے سے دل کے ساتھ، جس کی قدر ہماری سینکڑوں زبانوں اور قلموں سے زیادہ ہے، اپنے جسم سے بم باندھ کر ٹینک کے نیچے چلا جاتا ہے"، "محرم وہ مہینہ ہے، جس میں عدل نے ظلم کے مقابل قیام کیا اور حق باطل کے سامنے ڈٹ گیا۔"

انقلاب اسلامی ایران کی تاریخ سے آگاہ لوگ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ شاہ ایران کی مخالفت کی بنیادی وجہ ایران میں معاشی اور معاشرتی مسائل کے ساتھ ساتھ شاہ ایران کا ایرانی ثقافت اور مذہبی رسوم کے ساتھ کھلواڑ تھا۔ ایسے میں ایران کی روحانی قیادت نے قیام کیا اور شاہ ایران کا تختہ پلٹ دیا۔ ایرانی قوم نے انقلاب ایران کے فوراً بعد عراق کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کو آٹھ برس لڑا اور لاکھوں قربانیاں پیش کیں، جن کے پیچھے بھی کربلا ہی نظر آتی ہے۔ ایران عراق جنگ کے دوران ایک خاتون اپنے چار فرزند شہید کروانے کے بعد کہتی ہے کہ کاش میرے مزید بیٹے ہوتے تو میں انھیں بھی اسلام پر قربان کر دیتی۔ 13 جون 2025ء کو جو ایرانی جرنیل اور سائنسدان اسرائیل نے شہید کیے، تقریباً سبھی ایران عراق کی جنگ کے دوران شہادت کا شوق لیے میدان میں اترے تھے، تاہم خدا نے ان کو بعد کے لیے محفوظ رکھا۔

یہ جرنیل ایک ہی خواہش رکھتے تھے کہ خداوند کریم ہمیں ہمارے ساتھیوں سے ملا دے۔ خدا نے ان کی آرزو پوری کردی۔ اب بھی ایران میں ایسے لاکھوں افراد موجود ہیں، جو اسی جذبے کے ساتھ زندہ ہیں، حتی کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای بھی انہی افراد میں سے ایک ہیں، جو ایران عراق جنگ کی باقیات ہیں۔ یہاں ایک بات قابل ذکر ہے، ہم ایک قوم کے فکری سسٹم کی بات کر رہے ہیں، یہاں ہمارا مقصد کسی قوم، شخصیت کے ہر اقدام کو حق کی سند عطا کرنا نہیں ہے۔ اقوام اور شخصیات غیر معصوم ہیں، ان سے غلطی ہوسکتی ہے اور ایرانی قوم اس اصول سے مبرا نہیں۔ آج پوری مسلم دنیا میں ایران کی مزاحمت کی تعریفیں ہو رہی ہیں، عالم اسلام میں ہر شخص خوش ہے کہ ایران نے اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا غرور خاک میں ملا دیا۔

اسرائیل کے شہر جن کو وہ ناقابل تسخیر اور ناقابل رسائی سمجھتا تھا، وہاں ایرانی میزائلوں کی گھن گرج آج پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ آئرن ڈوم، تھاڈ، سب سے بہترین فضائی آلات، جدید ترین طیارے سب ناکام ہوگئے۔ ایرانی میزائل جو ہائپر سانک ٹیکنالوجی کے حامل ہیں، اسرائیلی ائیر ڈیفنس سسٹم کو پچھاڑ کر اپنے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آج پاکستانی کالم نگاروں کی ایک بڑی تعداد نے ایران اسرائیل جنگ کو حق و باطل کا معرکہ قرار دیا، کچھ نے اسے مظلومین کی چنگھاڑ قرار دیا۔ بعض لکھتے ہیں کہ ایران پر حملہ عالم اسلام پر حملہ ہے۔ ایرانی ناکامی عالم اسلام کی ناکامی ہوگی اور اس کے بعد عالم اسلام کا کوئی ملک محفوظ نہیں ہوگا۔

خورشید ندیم نے درست لکھا کہ آج فقط مذمتی بیانات سے کام نہیں چلے گا۔ عالم اسلام کو عملی طور پر ایران کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، تاکہ اسرائیل اور اس کے پشت پناہ امریکہ کی پیشرفت کو روکا جا سکے۔ انھوں نے درست لکھا کہ ایران اس وقت تنہا ظالموں اور جابروں کے خلاف کھڑا ہے۔ عالم اسلام اگرچہ زبانی طور پر اس کی حمایت کر رہا ہے، تاہم عملاً کسی جانب سے کوئی مدد موصول نہیں ہو رہی۔ شنید ہے کہ قطر، اردن اور عرب امارات ایرانی میزائلوں کو روکنے میں اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں۔ کچھ کالم نویس پریشان ہیں کہ نہیں معلوم ایران کب تک اپنا دفاع کرسکے گا۔ ایران جب تک اپنا دفاع کرے، اس نے عالم اسلام پر حجت تمام کر دی ہے کہ عزت کا راستہ جرات و بہادری کا راستہ ہے۔

اگر اکیلا ایران کم وسائل کے باوجود اسرائیل پر قیامت بن کر نازل ہوسکتا ہے تو عالم اسلام کے دیگر ممالک جو اسلام کے رو سے رشتہ اخوت میں بندھے ہوئے ہیں، مل کر اسرائیل اور اس سرپرستوں کو کس مشکل سے درپیش کرسکتے ہیں، تاہم اس کے لیے اسلام کی آفاقی تعلیمات پر ایمان درکار ہے۔ اس کے لیے آپ کا فکری نظام درست ہونا چاہیئے، آپ کے رول ماڈلز ایسے ہونے چاہییں، جو اسلام کی تعلیمات کا عملی نمونہ ہوں۔ اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار، اہل غزہ بھی تو اسی عالم اسلام کا حصہ ہیں، ہماری تاریخ ایسے جری اور باعمل مسلمانوں سے پر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان حکمران اپنی فکری بنیادوں کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کریں اور اپنی مسئولیت کو نتائج جانے بغیر انجام دیں۔ اگر آج ایران کی مزاحمت کمزور ہوئی تو پھر ترکی، سعودیہ، امارات، ملائشیا، پاکستان بلکہ کوئی بھی اسلامی ملک آزاد اور خود مختار نہیں رہے گا۔ کل غزہ ہماری فرنٹ لائن تھا، آج ایران اسلام کی فرنٹ لائن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ظلم کے خلاف قیام ایران عراق جنگ جنگ کے دوران عالم اسلام بھی ایران دنیا میں جو ایران اسلام کی ایران کے ایران کی اسلام پر کہ ایران کے ساتھ نہیں ہے ہیں کہ ایک ہی کے لیے اور اس

پڑھیں:

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ شاہ رحیم الحسینی نے اپنے سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران گلگت بلتستان اور چترال میں مریدوں سے اہم ملاقات کی ہیں تاہم ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہوا جب گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

شہزادہ شاہ رحیم الحسینی امامت سنبھالنے کے بعد پہلی بار 20 مئی کی شام اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پر پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری اور خاتونِ اوّل نے نور خان ایئر بیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا اور ایوانِ صدر میں ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا جبکہ اگلی صبح وزیراعظم نے انہیں ناشتے پر مدعو کیا۔ پرنس شاہ رحیم 22 مئی کو گلگت بلتستان پہنچے اور مریدوں سے ملاقات اور دیدار کا سلسلہ شروع ہوا۔

پرنس شاہ رحیم کا دورہ اور گلگت بلتستان الیکشن

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا کا امامت سنبھالنے کے بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ ان کے دورے کا باضابطہ اعلان ہوتے ہی گلگت بلتستان اور چترال میں ان کے مریدوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جشن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

پرنس رحیم نے ایک ایسے وقت میں گلگت بلتستان میں اپنے مریدوں سے ملاقات کی جب وہاں عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع تھی۔ اسماعیلی برادری کے دورے کا سیاست اور الیکشن سے کوئی تعلق ہے نہ ہی انہوں نے سیاست پر کوئی بات کی۔ انہوں نے اپنے مریدوں سے خطاب میں تعلیم، معاشیات، ہنر، موسمیاتی تبدیلی اور جدید دور کے تقاضوں پر بات کی، تاہم اس کے باوجود کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ان کے دورے کا الیکشن پر کچھ حد تک بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔

مریدوں کا جھکاؤ کس طرف ہو گا؟

آغا خان کے دورے اور گلگت بلتستان الیکشن پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر آغا خان پنجم کے دورے کا الیکشن پر کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق آغا خان کا خاندان غیر سیاسی ہے اور کبھی انہوں نے کسی ملک کی سیاست یا انتخابات پر بات کی ہے نہ ہی اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ دورے کے دوران بھی انہوں نے کہیں بھی سیاست پر بات نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں:پرنس رحیم آغا خان کا پہلا سرکاری دورۂ پاکستان مکمل، خیرسگالی اور یکجہتی کا پیغام

نوجوان صحافی کامران علی جنہوں نے آغا خان پنجم کے دورے کی کوریج کی، کا کہنا ہے کہ پرنس رحیم نے اپنے مریدوں سے خطاب میں سیاست پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ آغا خان نے سیاست پر بات نہیں کی، لیکن جن رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا اور عزت دی، ان کا گراف مریدوں کی نظر میں بلند ہو گیا۔ ’گلگت بلتستان میں اسماعیلی برادری کی خاصی آبادی ہے اور ان کے ووٹ کسی کی بھی جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں‘۔

کامران علی کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اپنی بیٹی اور خاتونِ اول کے ساتھ خود نور خان ایئر بیس گئے اور آغا خان کا استقبال کیا۔ جب وہ ایوانِ صدر پہنچے تو بلاول بھٹو زرداری نے بھی ان کا خیر مقدم کیا۔

کامران علی نے بتایا کہ جب آغا خان شاہ رحیم الحسینی کے والد شاہ کریم الحسینی کا انتقال ہوا تھا تو اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری تعزیت کے لیے پرتگال گئے تھے۔ ’اگرچہ آغا خان کا سرکاری سطح پر استقبال کیا جاتا ہے، لیکن آصف علی زرداری کی اہمیت مریدوں کی نظر میں بڑھ گئی ہے‘۔

کامران نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا، لیکن مرید سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور امام کی عزت و وقار کے لیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن میں کس کا پلہ بھاری ہے؟

ان کاکہنا ہے کہ ’میرے خیال میں اگر آغا خان کے دورے کا سیاسی سطح پر کوئی فائدہ ہوا تو وہ پیپلز پارٹی کو ہو گا، کیونکہ انہوں نے اس دورے کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ وفاق میں صدر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے گورنرز نے ان کا بھرپور استقبال کیا‘۔

آغا خان کے دورے کا فائدہ کس حد تک ہو گا؟

اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اس دورے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ذاکر خان کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور وہ اپنے امام کے دیدار کے لیے کراچی سے گئے تھے، نے بتایا کہ اس دورے کے دوران کہیں بھی انہوں نے سیاست پر بات نہیں کی۔

ذاکر کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے جس طرح آغا خان کا استقبال کیا اور عزت دی، اس سے ان کی نظروں میں ان کی اہمیت بڑھ گئی۔

ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے ابھی تک اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا۔ ذاکر کا خیال ہے کہ اس دورے سے وہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہوں نے دورے کے دوران پیش پیش رہ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہو۔ ’اسماعیلی برادری کے لوگ تعلیم یافتہ ہیں، وہ میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اور ووٹ بھی میرٹ پر ہی دیتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی طرف جھکاؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن دیگر جماعتوں سے بھی اسماعیلی امیدوار میدان میں ہیں۔ ’اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے امیدوار جماعت کے دفاتر یا دیگر نجی ملاقاتوں میں اس دورے کا ذکر کرتے ہیں اور اپنی جماعت کی طرف سے امام کو دیے گئے عزت و احترام کو ووٹرز کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں:تعلیم، برداشت اور اخلاقی رویوں سے انسانیت کی خدمت کی جائے، پرنس رحیم آغا خان کا  گلگت میں خطاب

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری الیکشن مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جبکہ نواز شریف بھی وہاں پہنچے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے آغا خان کو بہت عزت دی، لیکن الیکشن مہم میں اس کا ابھی تک براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ جس جماعت نے امام کو عزت دی ہے، اس کا گراف اسماعیلی برادری میں بلند ہو گیا ہے تاہم یہ مقامی امیدواروں پر ہے کہ وہ اسے کیسے کیش کرتے ہیں‘۔

ذاکر نے بتایا کہ اس دورے کو سیاست کے ساتھ منسلک کرنے سے سیاسی امیدواروں اور جماعتوں کو نقصان کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسماعیلی برادری کے لوگ مذہب کو سیاست سے الگ رکھتے ہیں اور موقع پرستوں کو پسند نہیں کرتے۔

سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تمام امیدواروں کے لیے نیک خواہشات

اسماعیلی کونسل گلگت کی امورِ عامہ و سیکیورٹی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ کونسل ایک غیرسیاسی اور غیرجانبدار ادارہ ہے اور گلگت بلتستان اسمبلی کی جاری انتخابی مہم میں کسی سیاسی جماعت، امیدوار یا انتخابی گروپ کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتی۔

مقامی نیوز ویب سائٹ پامیر ٹائمز کے مطابق انتخابات سے قبل جاری بیان میں کمیٹی نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور آزاد امیدوار پورے خطے میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اسماعیلی کونسل ایک امامت کا ادارہ ہے جو سیاسی معاملات میں سخت غیرجانبداری برقرار رکھتی ہے اور کسی امیدوار یا جماعت کی توثیق نہیں کرتی۔

اسماعیلی کونسل نے یہ بیان اس وقت جاری کیا جب اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شاہ رحیم الحسینی گلگت بلتستان کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہو گئے۔

بیان میں کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں، ان کے نمائندوں اور آزاد امیدواروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتخابی عمل جمہوری اقدار، باہمی احترام، قانون کی حکمرانی اور پرامن ماحول کے مطابق ہوگا۔

مزید پڑھیں:وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پرنس رحیم آغا خان کی ملاقات، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کو وسعت دینے پر زور

بیان میں مزید زور دیا گیا کہ ہر اسماعیلی ووٹر اپنے ضمیر، سیاسی سمجھ بوجھ اور ذاتی رائے کے مطابق آئینی حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے آزاد ہے۔ اس پر زور دیا گیا کہ کونسل کسی فرد یا گروہ کو کسی خاص سیاسی جماعت یا امیدوار کی حمایت یا مخالفت کی ہدایت نہیں دیتی۔

اسماعیلی کونسل نے کمیونٹی کے افراد پر زور دیا کہ وہ انتخابی مدت کے دوران احترام، اتحاد، رواداری اور ذمہ دارانہ رویہ برقرار رکھیں، سیاسی وابستگیوں کو ذاتی معاملہ سمجھیں اور کمیونٹی کے اتحاد کو ترجیح دیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف علی زرداری آصفہ بھٹو آغا الیکشن بلتستان پرنس پرنس رحیم آغا پیپلز پارٹی دورہ پاکستان رحیم عام انتخابات گلگت

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا