data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پہلا حصہ
وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ صدر ٹرمپ کی 60 دن کی وارننگ ختم ہوتے ہی اگلے دن یہودی ریاست نے ایران پر حملہ کردیا۔ حملوں کے پہلے مرحلے میں جمعہ 13 جون علی الصباح ’’آپریشن رائزنگ لائن کے نام سے‘‘ 200 اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے 100سے زائد ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ جن میں جوہری تنصیبات، دفاعی نظام، کمانڈوز اور سائنس دان نشانہ بنائے گئے جس کے نتیجے میں ایرانی فوجی سربراہان، 20 کمانڈوز اور 6 ایٹمی سائنسدانوں سمیت 86 افراد جان بحق ہوئے۔
اسرائیل نے اس کارروائی کو ’’ایران کے ساتھ جاری تنازع کی تاریخ کا سب سے بڑا انٹیلی جنس حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔ جس کی منظم تیاری وہ مسلسل کئی دہائیوں سے اور کئی سطحوں پر کررہا تھا۔ یہ حملہ کسی فوری ردعمل کا نہیں بلکہ اسرائیل کی پرانی حکمت عملی کا اظہار تھا۔ 1981 میں اسرائیل نے پہلی مرتبہ ایک دوسری مقتدر ریاست عراق میں گھس کر اس کے ایٹمی ری ایکٹر ’’اوسیراق‘‘ پر آٹھ F-16 لڑاکا طیاروں کی مدد سے حملہ کیا تھا اور اسے مکمل طور پر تباہ کردیا تھا۔ اسرائیل کا موقف تھا کہ اگر وہ حملہ نہ کرتا تو عراق جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے قابل ہوجاتا۔
حملے کے اگلے دن اسرائیلی وزیراعظم مناخم بیگن نے کہا تھا ’’دوسری جنگ عظیم کے دوران ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم جتنے بڑے سائز کے بموں کے اسرائیلی شہروں پر حملوں کو روکنے کے لیے عراق کے صدر صدام پر حملہ ضروری تھا تاکہ اس ’’برائی‘‘ کو روکا جاسکے‘‘۔ اس وقت سے اسرائیل نے ڈیکلیئر کر رکھا تھا کہ ’’اگر کوئی ریاست اسرائیل کی بقا کے لیے خطرہ بنے اور جوہری طاقت حاصل کرنے کے قریب ہو تو اسرائیل کو اس پر پیشگی حملہ کرنے کا حق حاصل ہے‘‘۔ اسرائیل کی اس حکمت عملی کو ’’بیگن ڈاکٹرائن‘‘ کہا جاتا ہے۔
عراق کے بعد اسرائیل نے 2000ء کے اوائل ہی سے ایران کو اسرائیل کے لیے ’’وجودی خطرہ‘‘ قرار دے رکھا ہے۔ 2022 میں اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا تھا ’’ایران ایک آکٹو پس کی مانند ہے۔ حزب اللہ، حماس، حوثی اور دیگر گروہ صرف اس کے بازو ہیں۔ بازو کاٹنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ سر (تہران) پر حملہ کرنا ہوگا‘‘۔ پہلے دن ہی سے اسرائیلی حکمران ایسے نظریات پر عمل پیرا ہیں جنہوں نے اسرائیل کے دفاع کو محض روایتی دفاع نہیں رہنے دیا بلکہ ’’آفینسو ڈیفنس‘‘ یا جارحانہ دفاع میں تبدیل کردیا ہے۔
ان ہی نظریات کا نتیجہ ہے کہ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا اصل فوکس ایران ہے اور اس نے ایران کو اندر سے کمزور کرنے، تنہائی کا شکار بنانے، عالمی سطح پر بدنام کرنے، اس کے جوہری پروگرام اور علاقائی اثرات کو محدود کرنے کی حکمت عملی پر کام شروع کررکھا تھا۔ ایران کے اندر موساد کی موجودگی کو بڑھانا، خفیہ اڈے بنانا، میزائل لانچ کرنا، سائبر وار فیئرکے ذریعے کارروائیاں کرنا اور اب اسرائیل کا ایران پر موجودہ حملہ، اسی نظریے کی توسیع اور ایک منصوبہ بند اسٹرٹیجک مہم کا حصہ ہے۔ اس حملے سے پہلے کی اسرائیل کی خاموشی اس کی تیاری کی وسعت اورگہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔
جمعہ کی صبح حالیہ حملے میں مرکزی زمینی کردار اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے اہل کاروں کا رہا۔ 2018-2022 کے درمیان موساد نے مقامی ایجنٹوں، دوہری شہریت رکھنے والے افراد اور بیرونی ملیشیائوں کے ذریعے ایران کے اندر ایک مکمل خفیہ کارروائی کا ڈھانچہ کھڑا کر لیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق 2025 تک اسرائیل نے ایران کے اندر موجود اسلحہ گوداموں، میزائل فیکٹریوں اور سائنسی مراکز تک ڈومسٹک حملوں کی صلاحیت حاصل کرلی تھی‘‘۔ یہ کوئی sleeper cells نہیں تھے بلکہ مکمل طور پر چوکنا اور آپریشنل بیسز تھے جن میں موساد نے تہران کے آس پاس ہتھیار، ڈرونز، میزائیل لانچرز اور کمانڈوز تعینات کیے۔
موساد نے ان بیسز کو دیہی علاقوں، تہران سے باہر گوداموں اور خفیہ کمپائونڈز میں اس طرح چھپایا کہ وہ ایرانی سراغ رسانی کے نیٹ ورک کی گرفت میں نہ آسکیں۔ یہ بیسز خاموشی سے فعال رہے اور مخصوص وقت پر متحرک کردیے گئے۔ یہ ان ہی سیلز کی کارروائیاں تھیں جنہوں نے بعض ایرانی کمانڈوز کی گاڑیوں پر چپکنے والے بم اور نشاندہی کرنے والی چپس چپکادیے تھے جن کی وجہ سے وہ مارے گئے۔
ABC نیوز نے ایک ویڈیو نشر کی ہے جس میں دو اسرائیلی ایجنٹ ایرانی سرزمین پر ہتھیار نصب کرتے نظر آرہے ہیں۔ ایسی کارروائیوں کا مقصد یہ تھا کہ جمعہ کی صبح اسرائیل کا بڑا حملہ بغیر کسی نقصان کے ہموار طریقے سے کامیاب ہوسکے۔ آپریشن شروع ہوتے ہی موساد اور آئی ڈی ایف نے تہران کے قریب اس خفیہ نیٹ ورک کو فعال کردیا۔ موساد کے کمانڈروں نے بمباری اور ڈرون حملوں کے ذریعے میزائل لانچرز فعال کرکے ایرانی جرنیلوں، سائنس دانوں اور حکومتی عمائدین کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ایران کو فوری طور پر سمجھ ہی میں نہیں آیا کہ حملہ ملک کے اندر سے بھی ہورہا ہے۔ لا علمی کا عالم یہ تھا کہ جس وقت اسرائیل ایران پر حملہ کررہا تھا پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے کئی اعلیٰ افسران ایک زیر زمین کمانڈ سینٹر میں اجلاس میں مصروف تھے اور وہیں مارے گئے۔ ایرانی شہریوں نے ٹوئٹر پر لکھا: موساد کے لوگ تہران کے آس پاس ڈرون چلا رہے تھے اور ہمیں خبر نہیں ہوئی۔
اسلامی ممالک میں اپنی پراکسیز کو فعال کرنے اور حملے کروانے میں مصروف ایرانی حکام اور خفیہ ایجنسیوں کو حیرت انگیز طور پر موساد کی ان سرگر میوں، خفیہ بیسز اور نیٹ ورک کی کوئی خبر نہیں تھی۔ واشنگٹن پوسٹ اور گارڈین نے رپورٹ کیا ہے کہ ’’موساد نے ایران کے اندر چھوٹے چھوٹے خودمختار سیل بنائے تھے جو برسوں سے کام کررہے تھے‘‘۔ ان سیلز کا مقامی سلیپرز ایجنٹس اور ایرانی اور غیر ایرانی عناصر کے ذریعے استعمال ہونا خامنہ ای حکومت اور ایرانی سیکورٹی اداروں کی واضح اور بہت بڑی ناکامی ہے۔
ایران کی اندرونی عدم توجہ صرف موجودہ واقعہ تک محدود نہیں ہے۔ 2021-2024 تک ایران پر کئی ہائی پروفائل حملے ہوئے جن میں اسماعیل ہنیہ کی ایران کے اندر شہادت ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔ ایرانی حکومت کی داخلی کمزوریوں، انٹیلی جنس کمزوریوں اور علاقائی ڈپلومیسی پر زور دینے نے موساد کو انتہائی چالاکی اور کھل کر کام کرنے کے وسیع مواقع فراہم کیے۔ ایران نے خود تسلیم کیا کہ صہیونی ایجنسیوں نے ہمارے کچھ دفاعی مراکز کو اندرسے نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیل کے متوقع حملے کو قیاس نہ کرنے اور اہمیت نہ دینے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ایران نے امریکی مذاکرات میں لگاتار تاخیر کو اپنی ڈپلومیسی کی کامیاب حکمت عملی سمجھا اور اسرائیل کے ممکنہ حملے کو ایسی دھمکیاں اور چال باور کیا جن کا مقصد ایران پر دبائو بڑھانا تھا۔ اس اعتماد کا نتیجہ تھا کہ ایران دفاعی اقدامات کو موخر کرتا رہا۔ اس نے اپنے میزائل لانچرز کو تیاری کی حالت پر رکھا اور نہ ائر ڈیفنس سسٹمز کو ہائی الرٹ پر رکھا۔ اس غفلت کا نتیجہ تھا کہ اسرائیل کے حملے کے وقت ایران مکمل خوابیدگی کے عالم میں تھا اس کا آرمی چیف، جرنلز، کمانڈوز اور سائنس دان با آسانی اسرائیل کے ٹارگٹ پر آگئے۔
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران کے اندر اسرائیل کی اسرائیل نے اسرائیل کے اسرائیل کا حکمت عملی نے ایران ایران پر کے ذریعے پر حملہ تھا کہ

پڑھیں:

امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام

امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔

U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026

سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران