data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نوشہرو فیروز (نمائندہ جسارت)ڈپٹی کمشنر نوشہروفیروز محمد ارسلان سلیم کی زیر صدارت مون سون 2025 اور ممکنہ بارشوں اور سیلاب کے انتظامات کے سلسلے میں ایک اجلاس ڈپٹی کمشنر آفیس کے کامیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون صدام حسین میمن، ایکسین آبپاشی روہڑی ڈویزن افتخار احمد لانگاہ، ایکسین اسکارپ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر غلام قادر چانڈیو، ڈی ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر محسن علی، ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ عبدالجبار تگر،ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر، انفارمیشن آفیسر قمرالزمان بھنبھرو اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمام متعلقہ محکموں کے افسران مون سون 2025 کا کانٹی جنسی پلان تیار کر لیں۔ انہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ اپنے دستیاب وسائل افرادی قوت اور مشینری کی فہرست ڈپٹی کمشنر ا?فیس میں جمع کرائیں۔ انہوں نے لوکل گورنمنٹ کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ برساتی نالوں اور نالیوں کی صفائی ستھرائی مکمل کرائیں۔ انہوں نے برساتی پانی کی نکاسی کے نالوں سے تجاوزات کے خاتمہ یقینی بنائیں۔ انہوں نے محکمہ آبپاشی کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ ممکنہ بارشوں اور سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈپٹی کمشنر انہوں نے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے