’صیہونی حکومت سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی‘، آیت اللہ علی خامنائی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنائی نے اسرائیل کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد صیہونی حکومت کو ایک مضبوط اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں آیت اللہ خامنائی نے واضح کیا کہ ’ایران صیہونی حکومت کے ساتھ کسی قسم کی نرمی کا رویہ اختیار نہیں کرے گا‘۔
We must give a strong response to the terrorist Zionist regime.
We will show the Zionists no mercy.
— Khamenei.ir (@khamenei_ir) June 17, 2025
ان کا کہنا تھا ’ہمیں دہشت گرد صیہونی حکومت کو ایک مضبوط جواب دینا ہوگا۔ ہم صیہونیوں پر کوئی رحم نہیں کریں گے‘۔
آیت اللہ علی خامنائی یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کو نشانہ بنانے کا عندیہ
اسرائیل نے حالیہ دنوں میں ایران پر فضائی حملے کیے، جن کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ ایرانی قیادت اور عوامی سطح پر اسرائیل کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خامنائی کا یہ بیان ممکنہ طور پر آنے والے دنوں میں مزید سخت پالیسیوں کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ایسے سخت الفاظ کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران اس بار پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
ان بیانات کو ایران کی اس مستقل پالیسی کا تسلسل بھی قرار دیا جا رہا ہے جس میں وہ اسرائیل کو خطے کے امن و استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آیت اللہ آیت اللہ خامنائی صہیونی حکومت صیہونی حکومت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا یت اللہ ا یت اللہ خامنائی صہیونی حکومت صیہونی حکومت صیہونی حکومت ا یت اللہ رہا ہے
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔