علی خامنہ ای نے جنگی اختیارت پاسداران انقلاب کے حوالے کردیئے، فیملی کے ساتھ بنکر منتقل
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جنگ سے متعلق مکمل اختیارات پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کی شوریٰ کے حوالے کر دیے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وہ اپنی فیملی کے ساتھ ایک خفیہ زیر زمین بنکر میں مقیم ہیں۔
اب ایرانی پاسداران انقلاب کو جنگی فیصلوں، حملوں اور دفاعی حکمت عملیوں پر مکمل اختیار حاصل ہو گیا ہے۔
منگل کو پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں موساد اور اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے دفاتر کو براہ راست نشانہ بنایا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں معلوم ہے خامنہ ای کہاں چھپے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا: “ہم آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے نہیں جا رہے، کم از کم ابھی نہیں۔”
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی میزائل شہری یا امریکی فوجیوں پر گرے تو سخت جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے آیت اللہ خامنہ ای کو صدام حسین جیسے انجام کی دھمکی دی ہے۔
واضح رہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب کی ایئروسپیس فورس نے حالیہ دنوں میں شاہد 107 نامی جدید خودکش ڈرون متعارف کرائے ہیں، جن کی رینج 1500 کلومیٹر ہے اور ان کا مقصد اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خامنہ ای
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔