جوہری پروگرام کا حصول ایران کا حق ہے ‘ سراج الحق
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت)سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے علامہ جواد نقوی کے ہمراہ اسلام آباد میں ایرانی سفیر سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران 5 روز سے جاری اسر ائیلی جارحیت کے خلاف ایرانی عوام کا بھرپور جوابی حملے پر تحسین کی اور دہشت گردانہ حملے میں نشانہ بننے والے آرمی کے افسران سمیت جوہری سائنسدانوں اور بڑی تعداد میں عام شہریوں کی شہادت پر پاکستانی عوام کی طرف سے تعزیت کی۔سراج الحق نے ایرانی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جرأت مندانہ اقدام کو سراہا، جوہری پروگرام ایران کا حق ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ وقت مسلم امہ کے اتحاد کا ہے، اگر آج متحد ہو کر قابض صہیونی ریاست کا مقابلہ نہ کیا گیا تو کل سب کی باری آئے گی۔ او آئی سی اجلاس بلا کر متفقہ لائحہ عمل اپنانا اور دشمن کے عملی اقدامات کرنا وقت کا تقاضا ہے، مزاحمت میں زندگی ہے جبکہ مفاہمت بزدلی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔