data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران نے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائیوں کے دوران تل ابیب میں موساد کے ہیڈ کوارٹر  پر حملہ کردیا۔

ایران کے حملے کے بعد موساد کے ہیڈکوارٹر میں آگ بھرک اٹھی جس کے بعد علاقے میں دھوئیں کے گہرے بادل اُٹھتے دیکھے گئے۔

عالمی خبر ایجنسی کے مطابق اس حملے سے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا،  ایرانی سرکاری ٹی وی پر  نشر کردہ بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ہم نے صہیونی حکومت کی فوج کے انٹیلیجنس مرکز  اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے والے موساد کے مرکز پر حملہ کیا۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں موساد کے ہیڈ کوارٹر کے علاوہ  فوجی انٹیلیجنس ادارے امان کے مراکز کو  بھی براہ راست نشانہ بنایا گیا۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل  کے خلاف  ایک نئی اور  پہلے سے زیادہ طاقتور  لہر کا آغاز ہو چکا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری تسنیم نیوز  ایجنسی کے مطابق ایران کے جوابی حملوں میں شدت آنے کے بعد اسرائیل کے صدر نے زیر زمین شیلٹر میں پناہ لے لی۔

یاد رہے کہ ایران نے گزشتہ رات تل ابیب اور حیفہ پر میزائل و ڈرونز سے جوابی حملہ کیا تھا، ایرانی حملےکے بعد حیفہ ریفائنری کی پیداوار مکمل رک گئی جبکہ حملے میں 3 ملازمین ہلاک ہوئے،  اس حملے کے بعد پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل علی محمد نے کہا کہ ہم دشمن کو ایک لمحے کے لیے بھی امن میسر  نہیں ہونے دیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: موساد کے تل ابیب کے بعد

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا