اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں موساد اور امان کے مراکز پر میزائل حملہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
اسرائیلی فوج نے قریبی بس پارکنگ کو پہنچنے والے نقصان کو نمایاں کرکے حملوں کی نوعیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائل نے براہ راست اسٹریٹجک مقامات جن میں امان لاجسٹک سہولت اور ہرزلیہ میں موساد کے ہیڈکوارٹر شامل ہیں، کو نشانہ بنایا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی ایران نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے مرکز پر حملہ کردیا، جس کے بعد موساد کے مرکز میں آگ بھڑک اُٹھی ہے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد اور فوجی انٹیلیجنس ادارے امان کے مراکز کو براہ راست نشانہ بنایا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ وائرل ویڈیوز میں تل ابیب کے مضافاتی علاقے گلیلوٹ میں واقع امان لاجسٹک سینٹر جو اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کمپلیکس کا حصہ ہے۔
یہ حصہ ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر کردہ بیان میں سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے کہا کہ ہم نے صیہونی افواج کے انٹیلیجنس مرکز امان اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے والے ادارے موساد کے مراکز پر حملہ کیا، جو اس وقت آگ کی لپیٹ میں ہے۔ ادھر اسرائیلی فوج نے قریبی بس پارکنگ کو پہنچنے والے نقصان کو نمایاں کرکے حملوں کی نوعیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائل نے براہ راست اسٹریٹجک مقامات جن میں امان لاجسٹک سہولت اور ہرزلیہ میں موساد کے ہیڈکوارٹر شامل ہیں، کو نشانہ بنایا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رپورٹس کے مطابق نشانہ بنایا ہے موساد کے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔