ایف بی آر کو گرفتاری کا اختیار دینا کالا قانون ہے
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان بزنس گروپ (PBGO) کے بانی اور سابق چیئرمین کاٹی، فراز الرحمٰن نے فنانس بل 2025 میں شامل اس متنازع شق کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کے تحت ایف بی آر کو کمپنیوں کے سی ای اوز، سی ایف اوز اور ڈائریکٹرز کو ٹیکس فراڈ کے الزام میں گرفتار کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔فراز الرحمٰن کا کہنا ہے کہ یہ قانون نہ صرف سرمایہ کاروں کو ڈرانے کی ایک کوشش ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی سنگین اثرات مرتب کرے گا۔ ان کے مطابق، ایسے قوانین ٹیکس نظام کو بہتر نہیں بناتے، بلکہ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کے لیے ایک سزا بن جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ:> “تاریخ گواہ ہے کہ جب جب ٹیکس نظام کو آسان بنایا گیا، لوگ خود بخود ٹیکس نیٹ میں شامل ہوتے گئے۔ مگر آج کی حکومت الٹا راستہ اختیار کر رہی ہے — وہ نان فائلرز کی تعداد بڑھانا چاہتی ہے جبکہ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کو عزت دینے کے بجائے اب ان پر ہتھکڑیاں ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ قانون تاریخ میں کالا قانون کہلائے گا۔”فراز الرحمٰن نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص نان فائلر ہونے کے باوجود جائیداد یا گاڑی خریدتا ہے اور پھر بھی فائلر نہیں بنتا، تو اس کی اصل ذمہ داری حکومت اور اس کے اداروں کی نااہلی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران طبقے نے بار بار غریب اور متوسط طبقے کو نشانہ بنایا ہے اور اب کاروباری طبقے کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔