Jasarat News:
2026-07-24@04:34:24 GMT

ایف بی آر کو گرفتاری کا اختیار دینا کالا قانون ہے

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان بزنس گروپ (PBGO) کے بانی اور سابق چیئرمین کاٹی، فراز الرحمٰن نے فنانس بل 2025 میں شامل اس متنازع شق کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کے تحت ایف بی آر کو کمپنیوں کے سی ای اوز، سی ایف اوز اور ڈائریکٹرز کو ٹیکس فراڈ کے الزام میں گرفتار کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔فراز الرحمٰن کا کہنا ہے کہ یہ قانون نہ صرف سرمایہ کاروں کو ڈرانے کی ایک کوشش ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی سنگین اثرات مرتب کرے گا۔ ان کے مطابق، ایسے قوانین ٹیکس نظام کو بہتر نہیں بناتے، بلکہ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کے لیے ایک سزا بن جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ:> “تاریخ گواہ ہے کہ جب جب ٹیکس نظام کو آسان بنایا گیا، لوگ خود بخود ٹیکس نیٹ میں شامل ہوتے گئے۔ مگر آج کی حکومت الٹا راستہ اختیار کر رہی ہے — وہ نان فائلرز کی تعداد بڑھانا چاہتی ہے جبکہ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کو عزت دینے کے بجائے اب ان پر ہتھکڑیاں ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ قانون تاریخ میں کالا قانون کہلائے گا۔”فراز الرحمٰن نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص نان فائلر ہونے کے باوجود جائیداد یا گاڑی خریدتا ہے اور پھر بھی فائلر نہیں بنتا، تو اس کی اصل ذمہ داری حکومت اور اس کے اداروں کی نااہلی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران طبقے نے بار بار غریب اور متوسط طبقے کو نشانہ بنایا ہے اور اب کاروباری طبقے کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن