ایف بی آر افسر کو ڈائریکٹ ٹیکس فراڈ میں ملوث شخص کی گرفتاری کا اختیار نہیں ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ذرائع کے مطابق گرفتاری سے قبل ایف بی آر سپیشل بورڈ سے منظوری لی جائے گی، 5 کروڑ روپے سے زائد کا ٹیکس فراڈ کرنے پر کمپنی کے ایگزیکٹو کی گرفتاری ہو سکے گی۔ ریکارڈ میں ٹمپرنگ کرنے کی کوشش اور بھاگنے کی کوشش کی تو گرفتاری ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکس فراڈ میں ملوث گرفتاری کے قوانین میں تبدیلی کرا دی۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری سے قبل ایف بی آر سپیشل بورڈ سے منظوری لی جائے گی، 5 کروڑ روپے سے زائد کا ٹیکس فراڈ کرنے پر کمپنی کے ایگزیکٹو کی گرفتاری ہو سکے گی۔ ریکارڈ میں ٹمپرنگ کرنے کی کوشش اور بھاگنے کی کوشش کی تو گرفتاری ہو گی، 3 نوٹسز جاری کرنے کے باوجود حاضر نہ ہونے کی صورت میں گرفتاری ہو گی۔
ذرائع کے مطابق گرفتاری 3 نوٹسز ملنے پر متعلقہ اتھارٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کی صورت میں ہوگی، نئے فنانس بل میں 37A میں ترمیم کر کے دوبارہ قانون کا حصہ بنایا جائے گا۔ ایف بی آر افسر کو ڈائریکٹ ٹیکس فراڈ میں ملوث شخص کی گرفتاری کا اختیار نہیں ہو گا، وزیراعظم شہباز شریف نے فنانس بل میں 37AA کیلئے رولز نرم کر دیئے۔ 5 کروڑ سے کم ٹیکس فراڈ میں ملوث شخص کے خلاف تحقیقات جاری رہیں گی، ٹیکس فراڈ میں ملوث کے بیرون ملک فرار ہونے کے پیش نظر گرفتاری ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ٹیکس فراڈ میں ملوث گرفتاری ہو کی گرفتاری ایف بی آر کی کوشش
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔