چیف الیکشن کمشنر اور 2ممبران کی تعیناتی، پاکستان تحریک انصاف نے نام فائنل کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
چیف الیکشن کمشنر اور 2ممبران کی تعیناتی، پاکستان تحریک انصاف نے نام فائنل کرلیے WhatsAppFacebookTwitter 0 16 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے 2ممبران کی تعیناتی کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف نے نام فائنل کر لیے، عمر ایوب کا کہنا ہے کہ ہماری لسٹ تیار ہے جلد نام منظر عام پر لائیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں نے حکومت کی مالی پالیسیوں پر شدید تنقید کی جبکہ عمر ایوب، شیخ وقاص اکرم اور تیمور سلیم جھگڑا نے ایف بی آر، ایران سے پیٹرول اسمگلنگ، ٹیکس بوجھ اور مہنگائی کے سنگین اثرات پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، عمر ایوب نے 550 ارب کی پیٹرول اسمگلنگ اور 6100 ارب خسارے پر سوال اٹھائے، شیخ وقاص اور تیمور جھگڑا نے عوامی مشکلات، ٹیکس بوجھ اور غیرحقیقی اہداف پر شدید تنقید کی۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور پی ٹی آئی ارکان نے بجٹ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایف بی آر، ٹیکس پالیسیوں اور مہنگائی کو آڑے ہاتھوں لیا۔خیبرپختونخوا ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے کہا کہ ہماری سیریز آف پریس کانفرنس جاری ہے، ملکی مسائل کو سیریز آف پریس کانفرنس میں کورکررہے ہیں، یہ کوئی بجٹ نہیں ہے، یہ صرف لیلہ بجٹ ہے، حکومت کہہ رہی مہنگائی کم ہوگئی ہے، ماضی کے مقابلے میں 125 فیصد تک مہنگائی بڑھ گئی ہے، دوران بجٹ میری تقریر بند کردی گئی، ہم حکومت کو کھلا چیلنج کرتے ہیں آئیں مارکیٹ چلتے ہیں، حکومت کو کہتے ہیں آئیں مل کر گرانڈ سروے کرتے ہیں۔
عمر ایوب نے کہا کہ زراعت 0.
انہوں نے مزید کہا کہ ایس آئی ایف سی کے اہداف اپنے مرضی سے جاری کئے جا رہے ہیں، ایران سے 550 ارب روپے سالانہ پیٹرول کی اسمگلنگ ہو رہی ہے مگر ایف بی آر کمیٹی میں اس معاملے پر خاموش رہا، حکومتی پالسیوں کے باعث بنک مالکان کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے، حکومتیں پالیسیوں سیعام آدمی اورانڈسٹریزفائدے سے کوسوں دور ہیں۔پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے ایف بی آر پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے کرپشن کا نیا طریقہ کار ایجاد کیا ہے، کاروبار پہلے ہی بند ہیں، اس بجٹ نے ٹیکس دہندگان کا گلا گھونٹ دیا ہے۔
پی ٹی آئی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ حکومت کہتی ہے معیشت بہتر ہو رہی ہے، درحقیقت معیشت کا جنازہ نکل گیا ہے، تنخواہ دار طبقے پراربوں روپے کا ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے، سیلز ٹیکس بڑھا دیا گیا، ود ہولڈننگ ٹیکس الگ سے اربوں روپے بڑھا، عام آدمی آج آپ کو بد دعائیں دے رہا ہے، اصل سروے دیکھیں تو اس وقت زیرو فیصد گروتھ ہے، حکومت کی جابرانہ پالیسیاں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ایک بار حکومت نے گنے سے جوس نکال لیا ہے، اب حکومت گنے کی پھوک سے دوبارہ جوس نکالنے کی کوشش کررہی ہے اور یہ بجٹ عوام کے بچوں کی روٹی کا سوال بن چکا ہے، تاجروں پر 500 ارب کے نئے ٹیکس لگائے جارہے ہیں، تاجر نے غلطی کر لی پاکستان میں کاروبار کر لیا، پچھلے چند سالوں میں 32 لاکھ پاکستانی باہر چلے گئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ساڑھے 2400 ارب کے ٹیکسز تاجر برادری پر لگنے جا رہے ہیں، اب کیا تاجر جو کمائے وہ حکومت کو دے دے؟، تاجر کے بال بچے روٹی کہاں سے کھائیں گے، ہم حکومت کو کہتے ہیں سب کچھ خود ٹیک اوور کر لے، خود بھی کماو اور ہمیں بھی کما کر کھلاو، چھوٹی گاڑیاں، آن لائن ٹرانزیکشن سب پر ٹیکس لگایا جا رہا، لگتا ہے حکومت کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں رہی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہم ایران کے ساتھ کھڑے تھے اور کھڑے رہیں گے، نواز شریف ہم ایران کے ساتھ کھڑے تھے اور کھڑے رہیں گے، نواز شریف سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے بجٹ کو امیر پرور اور غریب کش قرار دیدیا اسرائیل کا ایک بار پھر تہران پر حملہ، سرکاری ٹی وی چینل کی عمارت کو نشانہ بنایا ایرانی پارلیمنٹ پاکستان سے اظہار تشکر کے نعروں سے گونج اٹھی ایران پر اسرائیلی حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، شہباز شریف پنجاب کا5335ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش، تنخواہ 10، پنشن میں 5فیصد اضافہ،کم از کم اجرت 40ہزار مقرر،، اپوزیشن کی ہنگامہ آرائیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین