عراق سے مزید 268پاکستانی زائرین واپس پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
عراق سے مزید 268پاکستانی زائرین واپس پہنچ گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 16 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)عراق سے پاکستانی زائرین کی واپسی جاری ہے ، خصوصی پروازوں کے ذریعے 268 پاکستانیوں کو وطن واپس لایا گیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان مطابق کراچی اور اسلام آباد کے لیے دو پروازیں باحفاظت پاکستان پہنچ گئیں، باقی زائرین کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے عراقی ایئرویز اور دیگر عراقی حکام کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ زائرین کو مزید مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مختصر نوٹس پر سفر کے لیے تیار رہیں، وزارت خارجہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستانی زائرین کی باحفاظت اور منظم واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جارہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم نے ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری کے قوانین میں تبدیلی کرا دی وزیراعظم نے ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری کے قوانین میں تبدیلی کرا دی ایران کا بڑا قدم، پارلیمانی بل کے ذریعے جوہری عدم پھیلاو کا معاہدہ چھوڑنے کی تیاری کر لی اقتدار اللہ کی امانت، ایک ایک پائی عوام کی ہے،خدمت کا سفررکے گا نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز این جی اوز کیلئے ٹیکس کی چھوٹ ختم، ایف بی آر مانیٹرنگ کرے گا، چیئرمین ایف بی آر کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ برطانوی تاریخ میں پہلی بار خاتون خفیہ ایجنسی ایم آئی 6کی سربراہ مقرر ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں ،بحران کا کوئی خطرہ نہیں ،نگران کمیٹیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔