عمر ایوب اور اسد عمر کو عدالت سے ریلیف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
لاہو ر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 جون2025ء) پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کی 9مئی جلائو گھیرائو کے مقدمات میں ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی گئی، عدالت نے اسد عمر کی عبوری ضمانتوں میں 25جولائی تک توسیع کردی۔
(جاری ہے)
انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں 9مئی جلائو گھیرائو کے مقدمات میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمرایوب کی عبوری ضمانتوں پر سماعت ہوئی، عدالت نے ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی۔رپورٹ کے مطابق عدالت نے اسد عمر کی عبوری ضمانتوں میں 25 جولائی تک توسیع کردی۔عمر ایوب کے وکیل رانا مدثر عمر نے حاضری معافی کی درخواست دائر کی تھی، قائد حزب اختلاف آج قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں مصروف ہیں، استثنیٰ دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔