اراکین اسمبلی کو سزا، جمہوریت کے لئے افسوس کا دن ہے،بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہاہے کہ تحریک انصاف کے 6 اراکین قومی اسمبلی، 3 ایم پی ایز اور ایک سینیٹر کو سزا سنادی گئی۔ آج جمہوریت کے لئے افسوس کا دن ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حامد رضا، زرتاج گل، رائے حسن نواز اور شبلی فراز کو سزا دی گئی، ہم صرف انصاف کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں۔
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ہمارے لیڈر کو جیل میں رکھا گیا، ایک خاتون کو لیڈر کی بیوی ہونے کی وجہ سے سزا دی گئی، ہمارے رہنماوں نے قربانیاں دیں لیکن سسٹم میں رہے، تحریک انصاف انتہا پسندی پر یقین نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سے کہا تھا اتنے طویل وقت تک سماعت نہیں ہوتیں، ایسے فیصلوں سے جمہوریت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قانون کہتا ہے ایک سے زائد ایف آئی آرز ہوں تو فیصلہ ایک کیس پر ہوتا ہے، انصاف کے بغیر فیصلے قوم اور جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہیں، الیکشن کمیشن رات کے اندھیرے میں نوٹیفکیشن جاری کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو سیاست سے باہر نکالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، پارلیمان کا حصہ بننا چاہتے ہیں مگر سوال ہے کہ کیا اب بھی ایوان میں جانا چاہیے؟ پاکستان تحریک انصاف بہت جلد اگلا لائحہ عمل دے گی،بیرسٹر گوہر تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے،فیصلے ہائی کورٹس میں چیلنج کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر تحریک انصاف نے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔