چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہاہے کہ تحریک انصاف کے 6 اراکین قومی اسمبلی، 3 ایم پی ایز اور ایک سینیٹر کو سزا سنادی گئی۔ آج جمہوریت کے لئے افسوس کا دن ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حامد رضا، زرتاج گل، رائے حسن نواز اور شبلی فراز کو سزا دی گئی، ہم صرف انصاف کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں۔
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ہمارے لیڈر کو جیل میں رکھا گیا، ایک خاتون کو لیڈر کی بیوی ہونے کی وجہ سے سزا دی گئی، ہمارے رہنماوں نے قربانیاں دیں لیکن سسٹم میں رہے، تحریک انصاف انتہا پسندی پر یقین نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سے کہا تھا اتنے طویل وقت تک سماعت نہیں ہوتیں، ایسے فیصلوں سے جمہوریت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قانون کہتا ہے ایک سے زائد ایف آئی آرز ہوں تو فیصلہ ایک کیس پر ہوتا ہے، انصاف کے بغیر فیصلے قوم اور جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہیں، الیکشن کمیشن رات کے اندھیرے میں نوٹیفکیشن جاری کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو سیاست سے باہر نکالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، پارلیمان کا حصہ بننا چاہتے ہیں مگر سوال ہے کہ کیا اب بھی ایوان میں جانا چاہیے؟ پاکستان تحریک انصاف بہت جلد اگلا لائحہ عمل دے گی،بیرسٹر گوہر تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے،فیصلے ہائی کورٹس میں چیلنج کریں گے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر تحریک انصاف نے کہا کہ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن