9مئی مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما ؤں کو سزائیں، بیرسٹر گوہر کا ردعمل بھی سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے 9مئی مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کوسزا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسداد دہشتگردی عدالت نے غیر منصفانہ فیصلہ دیا،6اراکین قومی اسمبلی کو سزا سنائی گئی،یہ وہ لوگ ہیں جو پرامن سیاست کرتے ہیں،پی ٹی آئی سیاست میں انتشار اور تشدد پر یقین نہیں رکھتی، جنہیں سزائیں دی گئیں وہ سیاست میں تشد دپریقین نہیں رکھتے،سزاؤں کو عدالتوں میں چیلنج کریں گے۔
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر زرتاج گل کوسزا سنائی گئی،ان فیصلوں سے جمہوریت تباہ ہو جائے گی،ہمارا ایک ہی موقف رہا کمیشن بنائیں اور فیئر ٹرائل کرکے سزادیں،پی ٹی آئی آئندہ کے لائحہ عمل کا بہت جلد اعلان کرے گی،ان کاکہناتھا کہ پی ٹی آئی کیخلاف تمام کیسز سیاسی ہیں،آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ جلد کریں گے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کو 9مئی کے مقدمات میں سزائیں،سربراہ پلڈاٹ سربراہ بلال محبوب کا اہم بیان
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی نے مفاہمت کی بھرپور کوشش کی، ایوان میں جانا ہے یا بائیکاٹ کرنا ہے اس کا فیصلہ بانی کریں گے،عدلیہ کو امید کی نظر سے دیکھا جاتاہے لیکن عوام مایوس ہو چکےہیں،اب بھی وقت ہےاس سسٹم کو بچائیں،پہلے بھی کہا تھا سیاسی مسائل کا سیاسی حل ڈھونڈیں،جب تک عوام کے ووٹ کی قدر نہ ہو سیاست کامیاب نہیں ہوتی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔