جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار ختم ہو تو وہ شہنشاہت ہے، بیرسٹر گوہر WhatsAppFacebookTwitter 0 29 July, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار ختم ہو تو وہ شہنشاہت ہے، خدشہ پہلے سے تھا دیوار پر لکھا نظر آرہا تھا کہ ہمارے لوگوں کو نا اہل کیا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ عدالتیں ہمیں مرضی کا وکیل کرنے کا وقت نہیں دے رہیں، کہا گیا کیس کو ختم کرنا ہے، ہمارا آئینی حق ہے ہمارا کیس ہماری مرضی کا وکیل لڑے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ فیصل آباد میں جج صاحب سے کہا گیا ہمیں وکیل کرنا ہے، انہوں نے سٹیٹ کونسل مقرر کر دیا، فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کئے جا رہے، الیکشن کمیشن کو وضاحتیں دینے کے بجائے آئین اور قانون کو فالو کرنا چاہئے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نوٹس کر کے فریقین کو سننا تھا، الیکشن کمیشن نے جلدی دکھائی ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے، آرٹیکل 63 میں واضح ہے نا اہلی سے قبل فریق کو سنا جاتا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ایسے کیسز میں 90 دن کا وقت ہوتا ہے، دس سال کی سزائیں کیا اگر عمر قید بھی ہو تو الیکشن کمیشن کو سننا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو نا اہل کرنے سے بہتر ہے ہوش کے ناخن لیں، ایک دوسرے کے گریبانوں سے ہاتھ نکالنے کا وقت ہے، جن لوگوں کو سزائیں ہوئی ہیں وثوق سے کہتا ہوں یہ لوگ سیاست میں انتشار نہیں چاہتے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے یہ بڑی بدقسمتی ہے، بانی پی ٹی آئی کے بچوں سے ہمارا براہ راست رابطہ نہیں ہوتا، اپنے والد کے لئے آنا ان کا حق ہے اگر وہ آئے تو بھرپور استقبال کرینگے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہر کیس میں سزائیں نہیں دیتے، جمہوری لوگوں کے رویے کچھ اور ہوتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیلنج ہے سیاسی اور جمہوری طریقے سے ہماری حکومت گرا کر دکھائو، علی امین گنڈاپور چیلنج ہے سیاسی اور جمہوری طریقے سے ہماری حکومت گرا کر دکھائو، علی امین گنڈاپور پنجاب کے تمام پارکس اور باغات میں سگریٹ نوشی اور ویپنگ پر پابندی عائد مدت ملازمت میں توسیع کے تمام دروازے بند ہونے کے بعد ڈاکٹر مختار کا چیئرمین ایچ ای سی کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان قائداعظم یونیورسٹی ہاسٹلز خالی نہ کرنیوالے متعدد طلبہ گرفتار، یونیورسٹی کا موقف بھی جاری ہیومن رائٹس کمیشن کا تنخواہ دار طبقے کیلئے کم از کم اجرت 75ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ وزیراعظم نے پاک بزنس ایکسپریس کا افتتاح کردیا، ٹرین کا کرایہ کتنا ہوگا؟ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: چیئرمین پی ٹی آئی الیکشن کمیشن بیرسٹر گوہر

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن