بیرسٹر گوہر نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے حوالے سے متعصب قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے حوالے سے متعصب قرار دے دیا۔
اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس وقت جمہوریت داؤ پر لگی ہوئی ہے، ہمارے ارکان کو آئین کے آرٹیکل 63 ون ایچ کے تحت نااہل کیا گیا، یہ جانے بغیر کہ اے ٹی سی سرگودھا کی سزا قانونی طور پر درست ہے بھی یا نہیں۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے جمہوریت اس وقت داؤ پر لگی ہے، ہم مسلسل کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کےحوالے سے متعصب ہے، یہ نوٹیفکیشن ہمارے موقف کو ایک مرتبہ پھر واضح کرتا ہے۔
اسلام پورہ: رشتہ سے انکار، بزرگ خاتون سمیت تین افراد زخمی
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایم این اے احمد چٹھہ اور اپوزیشن لیڈر پنجاب احمد بچھر کو نا اہل کر دیا گیا، چترال سے ہمارے ممبر اسمبلی عبداللطیف کو اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے سزا سنائی، الیکشن کمیشن نے نااہلی کے سوال پر نوٹس کیا اورکیس کی سماعت29 جولائی کو ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن اور انصاف کے عمل میں دہرا معیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر نے الیکشن کمیشن پی ٹی آئی نے کہا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔