اب پاکستان کی فضاؤں میں چینی ساختہ مسافر بردار طیارے اڑان بھریں گے
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
ایئر کراچی پاکستان میں چینی ساختہ مسافر بردار طیارے لانے کو تیار ہے جب کہ ڈومیسٹک مسافر غیر معمولی رعایت کا فائدہ اٹھا سکیں گے۔
چیئرمین ایئر کراچی حنیف گوہر نے کہا کہ ڈومیسٹک ٹکٹس کی قیمت چالیس فیصد تک کم ہوگی، ابتدا میں چینی پائلٹ ہی طیارے آپریٹ کریں گے۔
چینی طیارے قیمت میں ایئر بس اور بوئنگ کے مقابلے میں آدھی قیمت پر ہے، آدھی قیمت کے باعث لیز کی قیمت بھی کم ہوگی جس کا فائدہ مسافروں کو ملے گا۔
مسافروں کے لئے ٹکٹ میں چالیس فیصد تک کمی ہوگیں، ابتدا میں چینی پائیلٹ طیارے چلائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشیش ہے کہ چینی طیاروں کے سمیولیٹر اور ریزرو انجن بھی یہاں لائیں جائیں۔
سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ ہمیں چینی طیاروں پر اعتراض نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن ہمیں اجازت دینے کو تیار ہے، چینی طیارہ 919 ماڈل ہے اور یہ 150 مسافروں کو لے جاسکتا ہے۔
https://cdn.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔