بانی چیئرمین کے بچے پاکستان آئے تو پرجوش استقبال کریں گے، چیئرمین پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
راولپنڈی:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ ابھی وقت ہے ایک دوسرے کے گریبانوں سے ہاتھ نکالا جائے اور اگر بانی پی ٹی آئی کے بچے اگر پاکستان آئے تو پرجوش استقبال کریں گے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن وضاحتیں دینے کے بجائے آئین اور قانون کی پیروی کرے، جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار ختم ہو جائے تو وہ شہنشاہیت ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمیں دیوار پر لکھا نظر آرہا تھا کہ ہمارے لوگوں کو نا اہل کیا جائے گا، عدالتیں ہمیں مرضی کا وکیل کرنے کا وقت ہی نہیں دے رہیں، کہا گیا کیس کو ختم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا آئینی حق ہے ہمارا کیس ہماری مرضی کا وکیل لڑے، فیصل آباد میں جج صاحب سے کہا گیا ہمیں وکیل کرنا ہے تو انہوں نے اسٹیٹ کونسل مقرر کر دیا، فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے جارہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نوٹس کرکے فریقین کو سننا تھا، الیکشن کمیشن نے جلدی دکھائی ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 میں واضح ہے نااہلی سے قبل فریق کو سنا جائے گا، الیکشن کمیشن کے پاس ایسے کیسز میں 90 دن کا وقت ہوتا ہے، 10 سال کی سزائیں کیا اگر عمر قید بھی ہو تو الیکشن کمیشن کو سننا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو نا اہل کرنے سے بہتر ہے یہ لوگ ہوش کے ناخن لیں، جن لوگوں کو سزائیں ہوئیں، وثوق سے کہتا ہوں یہ لوگ سیاست میں انتشار نہیں چاہتے جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ بڑی بدقسمتی ہے۔
بیرسٹرگوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں سے ہمارا براہ راستہ رابطہ نہیں ہوتا، اپنے والد کے لیے آنا ان کا حق ہے، اگر آئے تو پر جوش استقبال کریں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ ہر کیس میں آپ سزائیں نہیں دیتے، جمہوری لوگوں کے رویے کچھ اور ہوتے ہیں، اب ان لوگوں کو سوچنا ہوگا جو پورے سسٹم کے رکھوالے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ