ہیومن رائٹس کمیشن کا تنخواہ دار طبقے کیلئے کم از کم اجرت 75ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 29 July, 2025 سب نیوز

حیدرآباد (سب نیوز)ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی)نے تنخواہ دار طبقے اور دیہاڑی دار مزدوروں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کم از کم اجرت 75 ہزار روپے مقرر کرنے اور لیبر قوانین پر موثر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مطالبہ حیدرآباد میں منعقدہ پروگرام میں ایچ آر سی پی کے رہنماوں اور دیگر مقررین نے کیا، پروگرام میں زندہ رہنے کے لیے اجرت کا حق کے موضوع پر ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔یہ پروگرام ایچ آر سی پی کی جانب سے شروع کی گئی ایک مہم کا حصہ تھا، جس میں محنت کشوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکنوں نے شرکت کی۔اپنی تقاریر میں ایچ آر سی پی کے نمائندوں نے موجودہ کم از کم تنخواہ کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ اسے بڑھا کر 75 ہزار روپے ماہانہ کیا جائے، کیوں کہ ایک 5 رکنی خاندان کے لیے موجودہ رقم میں خوراک، تعلیم اور صحت کے اخراجات پورے کرنا ممکن نہیں۔
ایچ آر سی پی کی حیدرآباد کوآرڈینیٹر غفرانہ آرائیں نے کہا کہ 75 ہزار روپے کم از کم تنخواہ کا نوٹیفکیشن تمام شعبوں پر لاگو ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے، جب کہ تنخواہ دار طبقہ ان مالیاتی اداروں کی شرائط کا بوجھ برداشت کر رہا ہے، جنہیں حکومت تسلیم کر رہی ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکمران اپنی تنخواہوں اور مراعات میں 600 فیصد اضافہ کر چکے ہیں، جب کہ مزدوروں کو جینے کے لیے بنیادی اجرت کا حق بھی نہیں دیا جا رہا، سرمایہ داروں اور اشرافیہ کو بڑے پیمانے پر مراعات دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نچلے درجے کے ملازمین کو یہ کہہ کر تنخواہوں میں اضافہ نہیں دیا جا رہا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط رکاوٹ ہیں۔ ایڈووکیٹ میر احمد منگریو نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کا مقصد صوبوں کے حقوق کو کمزور کرنا ہے، سندھ میں نجی شعبہ دیگر صوبوں سے مزدور بھرتی کرتا ہے، جب کہ مقامی افراد کو روزگار کے مواقع سے محروم رکھا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی پر کوئی کنٹرول نہیں اور حکومت کو کم آمدنی والے طبقے پر اس کے اثرات کی کوئی پروا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کم از کم تنخواہ کے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد میں دلچسپی نہیں رکھتی، موجودہ حالات میں 40 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ بھی ناکافی ہے۔ترقیاتی شعبے کے کارکن کاشف بجیر نے کہا کہ بچوں سے جبری مشقت آج بھی جاری ہے حالاں کہ اس کے خلاف قوانین موجود ہیں، جبری مشقت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن ان قوانین پر عمل نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے بتایا کہ ملک کے 60 فیصد سے زائد مزدور کنٹریکٹ سسٹم کے تحت کام کر رہے ہیں، محنت کشوں کے حقوق اس وقت ہی محفوظ ہوں گے جب ان کی یونینز مضبوط ہوں گی۔
گھریلو خواتین مزدوروں کی یونین کی رہنما جمیلہ لطیف نے کہا کہ اس طبقے کی خواتین کو بھی ایک مضبوط یونین کی ضرورت ہے، اور ایسی یونین کے فوری قیام کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ اور ان کی ساتھی خواتین چوڑی ساز مزدوروں کے لیے یونین بنانے لگیں تو متعلقہ کنٹریکٹرز کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں، اس کے باوجود یونین بنی اور اب خواتین مزدوروں کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ایچ آر سی پی کے کونسل رکن سلیم جروار نے کہا کہ محنت کشوں کے حقوق کو یقینی بنانے والے تمام قوانین پر مثر عمل درآمد ضروری ہے، مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے یونین کا قیام ناگزیر ہے، ورنہ ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔امداد چانڈیو، پشپا کماری، بوٹا امتیاز اور دیگر نمایاں کارکنان نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔بعد ازاں شرکا نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم نے پاک بزنس ایکسپریس کا افتتاح کردیا، ٹرین کا کرایہ کتنا ہوگا؟ وزیراعظم نے پاک بزنس ایکسپریس کا افتتاح کردیا، ٹرین کا کرایہ کتنا ہوگا؟ الیکشن کمیشن نے ایم این اے عبداللطیف چترالی کو نا اہل قرار دیدیا وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک سے ایتھوپین سفیر کی ملاقات، سبز منصوبوں اور ماحولیاتی تعاون پر تبادلہ خیال زائرین کیلئے چہلم امام حسین پر زمینی رستوں پر پابندی کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کا ملک گیر احتجاج کا اعلا ن چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، ڈپلومیٹک انکلیو کی شاہراہوں پر خوبصورت لینڈ سکیپنگ اور ماحول دوست شجرکاری کی ہدایت ایتھوپیا کے سفیر کی چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے ملاقات،شجرکاری مہم سمیت دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایچ آر سی پی تنخواہ دار کا مطالبہ ہزار روپے نے کہا کہ انہوں نے کے حقوق کے لیے

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟