با قاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والوں کو ہراساں کرنا ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا،وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور پر جائزہ اجلا س ہوا۔ وزیراعظم نے میڈیا میں رپورٹ ہونے والے ٹیکس نادہندہ گان کی گرفتاری کے معاملے پر فوری نوٹس لے لیا۔
وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ سیلز ٹیکس نادہندہ گان کی گرفتاری کا اختیار 1990 کی دہائی سے قانون کا حصہ ہے، تاہم اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے مزید مربوط بنانے کے لیے متعلقہ شقوں میں ترامیم کی جا رہی ہیں۔
وزیراعظم نے تمام معاملہ جانچنے کے بعد انتہائی سختی سے ہدایت کی کہ اس قسم کی کسی بھی ترمیم کو کاروباری برادری یا ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کے لیے ہرگز استعمال نہیں کیا جائے گا
انہوں نے کہاکہ با قاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والوں کو ہراساں کرنا ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کی عزت اور توقیر ہمارے سر آنکھوں پر ہے اور ان کو بلا جواز ہراساں کرنا نا قابل قبول ہے۔
وزیراعظم نے اس معاملے پر ایک خصوصی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس قوانین میں گرفتاری کا اختیار صرف اور صرف غیر معمولی حجم کے ٹیکس نادہندہ گان تک محدود ہونا چاہئے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گرفتاری کے حوالے سے ایکسٹرنل ریویو اور چیک اینڈ بیلنس کا موثر نظام وضع کیا جائے،ان قوانین کے غلط استعمال سے تحفظ سے متعلق شقیں فائنانس ایکٹ کا حصہ بنائی جائیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر پارلیمان میں موجود تمام اتحادی جماعتوں سے مشاورت یقینی بنائی جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے دفاع، قانون، تجارت، اقتصادی امور، اطلاعات و نشریات، وزیر مملکت برائے ریلویز، چیئرمین ایف بی آر، معاشی امور کے ماہرین اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہدایت کی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔