پنجاب کا 5 ہزار ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش، تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: صوبہ پنجاب کا مالی سال 2024-25 کا 5335 ارب روپے مالیت کا بجٹ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا، جس کے دوران ایوان میں سیاسی گرما گرمی بھی دیکھنے میں آئی۔
اسمبلی اجلاس کے دوران جہاں حکومتی بینچوں پر وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز اور کابینہ کے دیگر اراکین ایران کے دورے پر موجود رہے، وہیں اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کر لیا۔
اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا ہے کہ بھارتی جارجیت کامنہ توڑجواب دینے پر فیلڈمارشل کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری بجٹ دستاویزات کے مطابق سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 10 فیصد جبکہ پنشنرز کے لیے 5 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے 811 ارب 80 کروڑ روپے، صحت کے لیے 630 ارب 50 کروڑ روپے، بلدیاتی اداروں کے لیے 411 ارب روپے جبکہ زرعی ترقی کے لیے 129 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیرِاعلیٰ مریم نواز نے بجٹ کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ہمارے لیے اطمینان اور خوشی کی بات ہے کہ مسلسل دوسرے سال بھی پنجاب میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔
ادھر صوبائی حکومت کی ترجمان اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ بجٹ کا مجموعی حجم 5335 ارب روپے ہے اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بجٹ میں نہ تو کوئی نیا ٹیکس لگایا جائے گا اور نہ ہی کسی موجودہ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 1240 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جب کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے واضح حکمت عملی بجٹ میں شامل کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی اعتماد کے پیشِ نظر ایک سال کے دوران سرکاری اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں گی تاکہ شفاف طرزِ حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔