data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پیانگ یانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اْن نے اسلحہ ساز ادارے کا دورہ کیا اور توپ خانے کے گولوں کی پیداوار بڑھانے پر زور دیا ۔ حکمراں جماعت ورکرز پارٹی کے اخبار رودونگ سنمْن نے خبر دی ہے کہ کم جونگ اْن نے فیکٹری کا معاینہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے رواں سال کی پہلی ششماہی کی پیداوار کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ کم جونگ ان نے جدید جنگ کے لیے موزوں، نئے طاقتور گولوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے پیداواری صلاحیت کو مزید بڑھانے کی ضرورت کی نشاندہی کی۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کثیرملکی ٹیم نے رپورٹ جاری کی ، جس میں بتایا گیا کہ شمالی کوریا نے صرف 2024 ء میں روس کو توپ خانے کے تقریباً 90 لاکھ گولے اور دیگر ہتھیار فراہم کیے۔ بعض ماہرین کا اندازہ ہے کہ یوکرین پر روس کے حملوں میں استعمال ہونے والے 60 فیصد گولے شمالی کوریا میں تیار کیے گئے ہیں۔11ممالک پر مشتمل اس ٹیم میں جاپان، امریکا اور جنوبی کوریا بھی شامل ہیں۔ شمالی کوریا کے ذرائع ابلاغ نے گزشتہ ماہ خبر دی تھی کہ کم جونگ اْن نے گولا بارود کے ایک پلانٹ کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے گولوں کی پیداوار میں مزید اضافے کی ہدایت بھی کی تھی۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان گولا بارود کی فیکٹری کا دورہ کررہے ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شمالی کوریا کی پیداوار

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان