data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پیانگ یانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اْن نے اسلحہ ساز ادارے کا دورہ کیا اور توپ خانے کے گولوں کی پیداوار بڑھانے پر زور دیا ۔ حکمراں جماعت ورکرز پارٹی کے اخبار رودونگ سنمْن نے خبر دی ہے کہ کم جونگ اْن نے فیکٹری کا معاینہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے رواں سال کی پہلی ششماہی کی پیداوار کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ کم جونگ ان نے جدید جنگ کے لیے موزوں، نئے طاقتور گولوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے پیداواری صلاحیت کو مزید بڑھانے کی ضرورت کی نشاندہی کی۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کثیرملکی ٹیم نے رپورٹ جاری کی ، جس میں بتایا گیا کہ شمالی کوریا نے صرف 2024 ء میں روس کو توپ خانے کے تقریباً 90 لاکھ گولے اور دیگر ہتھیار فراہم کیے۔ بعض ماہرین کا اندازہ ہے کہ یوکرین پر روس کے حملوں میں استعمال ہونے والے 60 فیصد گولے شمالی کوریا میں تیار کیے گئے ہیں۔11ممالک پر مشتمل اس ٹیم میں جاپان، امریکا اور جنوبی کوریا بھی شامل ہیں۔ شمالی کوریا کے ذرائع ابلاغ نے گزشتہ ماہ خبر دی تھی کہ کم جونگ اْن نے گولا بارود کے ایک پلانٹ کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے گولوں کی پیداوار میں مزید اضافے کی ہدایت بھی کی تھی۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان گولا بارود کی فیکٹری کا دورہ کررہے ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شمالی کوریا کی پیداوار

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ