ٹرمپ کا ایران کو تناؤ کم کرنے کے لیے فوری مذاکرات کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری طور پر مذاکرات شروع کر دینے چاہییں، ورنہ “بہت دیر ہو جائے گی۔”
جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کے ساتھ ملاقات کے آغاز پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ایران یہ جنگ نہیں جیت رہا اور اسے فوراً بات چیت شروع کرنی چاہیے اس سے قبل کہ وقت گزر جائے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران تناؤ کم کرنے کے لیے بات چیت کرنا چاہتا ہے اور اسے ابھی یہ قدم اٹھانا چاہیے۔
ٹرمپ نے اسرائیل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں جو فی الحال اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے۔
ترک صدر سے رابطہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ترک صدر اردوان میں سے بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا جو کہ تین دن میں تیسرا رابطہ تھا۔
امریکی طیارے یورپ منتقل
امریکی فوج نے تیل بھرنے والے طیاروں کی بڑی تعداد یورپ منتقل کر دی ہے اور امریکی ایئرکرافٹ کیریئر نِمِٹز ایشیا سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔