ایران کے پاس 60 دن تھے، 61 ویں دن میں یہ ہونا ہی تھا،،ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو کشیدگی کم کرنے پر بات کرنی چاہیے، اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے۔
جی سیون اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایران کو ہر حال میں مذاکرات کی طرف آنا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران یہ جنگ نہیں جیت رہا، ایرانی حکام کشیدگی میں کمی کے لیے بات چیت کرنا چاہیں گے۔
انہوں نے کہاکہ ایران کے ساتھ ہمارا کوئی معاہدہ نہیں ہے انہیں ایک معاہدہ کرنا ہوگا، ایران کے پاس 60 دن تھے، 61 ویں دن میں یہ ہونا ہی تھا، جنگ دونوں فریقوں کے لیے تکلیف دہ ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی جاری ہے، اسرائیل نے ایران پر فضائی بمباری کرتے ہوئے سرکاری ٹی وی کو نشانہ بنایا ہے، جہاں سے شہادتوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہ ایران
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔